تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 128 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 128

۱۲۸ یہود بے خبر نہیں تھے گو اس پر کاربند نہ تھے۔“ ( تحفہ گولڑویہ ستمبر ۱۹۰۲ ۶) پس انجیل کے احکام صرف موسوی شریعت کی تجدید اور اس کے بیان کی حیثیت رکھتے تھے۔حضرت اقدس کے نزدیک وہ تو رات سے کوئی الگ شریعت کی کتاب نہ تھی۔پس حضرت عیسی علیہ السلام صاحب شریعت جدیدہ نبی تھے۔اور نہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام صاحب شریعت جدیدہ نبی ہیں۔چنانچہ آپ آنحضرت ﷺ کی شان میں لکھتے ہیں۔”دو ان معنوں سے خاتم الانبیاء ہیں کہ ایک تو تمام کمالات نبوت ان پر ختم ہیں اور دوسرے یہ کہ ان کے بعد کوئی نئی شریعت لانے والا رسول نہیں۔اور نہ کوئی (ضمیمه چشمہ معرفت صفحه ۹ طبع اوّل) ایسا نبی جو امت سے باہر ہو۔پھر فرماتے ہیں۔" " ہم نبی ہیں ہاں یہ نبوت تشریعی نہیں جو کتاب اللہ کو منسوخ کرے اور نئی کتاب لائے ایسے دعویٰ کو تو ہم کفر سمجھتے ہیں۔“ (بدر ۵ ، مارچ ۱۹۰۸ء) ان اقتباسات سے صاف ظاہر ہے کہ تشریعی نبوت کے دعویٰ سے آپ کو سراسر انکار ہے اور ایسے دعوی کو آپ کفر سمجھتے ہیں۔قاضی محمد یوسف صاحب نے بھی ہر گز آپ کے مجموعہ الہامات کو شریعت جدیدہ کے معنی میں "الکتاب المبین " قرار نہیں دیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایسی واضح تحریروں کی موجودگی میں جناب برق صاحب کا قاضی محمد یوسف صاحب کی کسی تحریر سے یہ نتیجہ نکالنا کہ حضرت مرزا صاحب کے الہامات شریعت جدیدہ تھے ہر گز جائز نہیں۔قاضی صاحب موصوف کبھی ایسی بات نہیں لکھ سکتے تھے۔جو احمدیت سے ارتداد کے مترادف ہو۔بلکہ ان کے نزدیک نہ انجیل کوئی شریعت جدیدہ کی کتاب تھی اور نہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات کو شریعت جدیدہ پر مشتمل