تحقیقِ عارفانہ — Page 68
الفاظ وارد ہیں۔۶۸ لم يبق من النبوة إلا المبشرات" خاری باب البحرات جلد ۴ صفحه ۱۴۹) نبوت میں سے مبشرات کے سوا کچھ باقی نہیں رہا۔" یہ الفاظ برق صاحب کی پیش کردہ حدیث کی تشریح کر رہے ہیں۔اس حدیث میں الا سے استثناء اس جگہ استثناء متصل ہے کیونکہ مبشرات کو نبوت میں سے قرار دیا گیا ہے۔اس سے ظاہر ہے موعود عیسی کو بھی احادیث نبویہ میں ان المبشرات" کی وجہ سے ہی نبی قرار دیا گیا ہے۔نہ شریعت جدیدہ لانے کی وجہ سے کیونکہ شریعت جدیدہ والی نبوت اور مستقلہ نبوت تو لم يبق“ کے الفاظ سے منقطع قرار دے دی گئی ہے۔رہی یہ بات کہ آنحضرت ﷺ نے رویائے صالحہ کو بھی مبشرات قرار دیا ہے سو یہ عام مومنوں کے لحاظ سے ہے ورنہ کشف اور الہام اور وحی کا دروازہ قرآن کریم کھلا قرار دیتا ہے۔علامه سندی حاشیه این ماجہ پر اس حدیث کے متعلق لکھتے ہیں۔یعنی مراد یہ ہے کہ علی العموم نبوت سے صرف اچھی خواہیں باقی رہ گئی ہیں ور نہ اولیاء کے لئے تو الہام اور کشف کا دروازہ بھی کھلا ہے۔“ حدیث منہم بن النبوة" حاشیه این ماجه جلد ۲ صفحه ۲۳۲ مطبوعه مصر ) "يَاعَمُ اَقِمَ مَكَانَكَ الَّذِى اَنْتَ بِهِ فَإِنَّ اللهَ خَتَمَ بِكَ الهِجْرَة كَمَا خَتَمَ کہ اے میرے چچاو ہیں مکہ میں ہی رہو اللہ نے تم پر ہجرت کو یوں ختم کر دیا