تحقیقِ عارفانہ — Page 686
۲۸۶ پھر علماء کو اور مسلمانوں کو حیوانات سے تشبیہ دیتے ہوئے لکھا ہے :- " جو حیوانات ماحول کے مطابق نہیں چل سکتے انہیں اسی طرح میٹ دیا جاتا ہے جس طرح مسلمان سائینس کی دنیا میں رہ کر اوراد و ظائف اور ریش و قبا پر زور صرف کر رہا ہے۔“ پھر مسلمانوں کی شان میں لکھتے ہیں :- ( دو قرآن صفحه ۵۱) لیکن آج ایسے مسلمان موجود نہیں خالی کلمہ گوؤں کا ہجوم ہے۔پیر پرستوں کی بھیڑ ہے۔درود خوانوں کا اثر د ہام ہے۔نشہ شفاعت میں چور اور خمار تو کل سے مخمور قوم کا ایک میلہ سا جما ہوا ہے جس میں ہمارے ملا صاحب و ضعی احادیث سنا سنا کر مسلم کو اور زیادہ سلا رہے ہیں۔“ آگے لکھتے ہیں :- " ( دو قرآن صفحه ۶۱ - ۶۲) ” یہ حقائق صاف صاف اعلان ہیں اس امر کا کہ دنیا میں حق بقا صرف طاقتور کو حاصل ہے۔اور کمزور کاہل بد اخلاق رسوم و عادات کو ہی اسلام سمجھنے والے۔رشتہ تسبیح کو طارم عرش کی کمند خیال کرنے والے۔منافق۔جھوٹے۔حلال و حرام کی تمیز نہ کرنے والے۔بد عمد۔بد قول۔محض دعاؤں سے سیاسی و معاشرتی انقلاب چاہنے والے مکار و عیار وغیرہ کو یقیناً میٹ دیا جائیگا۔“ یہ وہ پھول ہیں جو جناب برق صاحب نے مسلمانوں اور ان کے علماء پر بر سائے ہیں۔ان کے نزدیک ان عبارتوں میں نہ کوئی تلخ نوائی ہے نہ گالی نہ پچھیتی نہ تضحیک بلکہ آپ نے بزعم خود حق گوئی سے اظہار حقیقت فرمایا ہے۔اگر حضرت اقدس قاء اور صالحین علماء کا استثناء کرنے کے بعد بعض خبیث طبع لوگوں کی خباثت کا اظہار کر میں اور ان کے لئے اس قسم کے سخت الفاظ استعمال کریں یا کم و بیش جو برق صاحب نے استعمال کئے ہیں تو برق صاحب کے نزدیک گالیاں بن جاتی ہیں۔حالانکہ حضرت