تحقیقِ عارفانہ — Page 44
۴۴ پیدا ہوئے) سوم معیت فی المعنی " المضائفین کی صورت میں ہو جیسے بھائی بھائی سے معیت رکھتا ہے (اور باپ بیٹے سے ) اور ایک صورت معیت کی یہ ہے کہ دونوں شرف اور رتبہ میں معیت رکھیں جیسے هُما معاً في العلو وو دونوں بلند مرتبہ میں اکٹھے ہیں۔“ زیر تغییر آیت میں آخری قسم کی معیت مراد ہے جو شرف اور رتبہ میں معیت ہے کیونکہ فأُولئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِمْ کے جملہ اسمیہ ہونے کی وجہ سے معیت مکانی اور زمانی تو اس جگہ دنیا میں محال ہے اور متضائفین کی معیت کا اس جگہ تصور ہی نہیں ہو سکتا۔امام راغب آیت فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِین کے معنوں میں لکھتے ہیں :- قولُهُ ) فَا كُتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ ) أَى اجْعَلْنَا فِي زُمْرَتِهِمْ إِشَارَةٌ إِلَى قَوْلِهِ 66 فأولئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِمْ)۔“ مفردات راغب کتاب الکاف صفحه ۴۲۳) یعنی خدا تعالیٰ کے قول ما كتبنَا مَعَ الشاملوین میں مع کے معنی یہ ہیں کہ ہم کو زمرہ شاہدین میں داخل فرما۔اس میں خدا تعالیٰ کے قول فَأُولئِكَ مَعَ الَّذِينَ أنعم الله علیهم کی طرف اشارہ ہے (یعنی شاہدین کے زمرہ میں داخل کرنے کی دعا سے یہ مراد ہے کہ آیت فَأُولئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِمُ میں بیان کر وہ انعام یافتہ لوگوں کے زمرہ میں داخل کر ) پھر ان کی طرف سے فَأُولئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ الْآتِهِ کی یہ تفسیر بیان کی گئی ہے۔قَالَ الرَّاغِبُ مِمَّنْ اَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِمُ مِنَ الفِرَقِ الْاَرْبَعِ فِي الْمَنْزِلَةِ وَ 66 الثَّوَابِ النَّبِيَّ بِالنَّبِيِّ وَالصَّدِيقَ بِالصَّدِيقِ وَالشَّهِيدَ بِالشَّهِيدِ وَالصَّالِحَ بِالصَالِحِ۔“ ( تفسیر بحر المحیط جلد ۳ صفحه ۲۸۷)