تحقیقِ عارفانہ — Page 530
۵۳۰ لا بُعْدَ فِي تَكلم اللهِ تَعَالَى بِكَلامِ مُقِيدٍ فِي نَفْسِهِ لَا سَبِيلَ لِأَحَدٍ إِلَى معرفيهِ اليَمَتِ فَوَائِحُ السُّورِ مِنْ هَذا القَبيلِ وَهَلْ يَجُوزُ لاحَدٍ أَنْ يَقُولَ إِنه كَلام غَيْرُ مُفيد وَهَلْ لِأَحَدٍ سَبِيلُ إِلَى دَرُ كِهِ - ترجمہ :۔یعنی یہ امر کوئی بعید نہیں کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایسا کلام نازل ہو۔جو اپنی ذات میں مفید ہو مگر کسی کو اس کی معرفت حاصل نہ ہو کیا قران مجید کے حروف مقطعات اس طرح کے نہیں۔کیا کسی کے لئے یہ کہنا جائز ہے کہ ان کا کوئی فائدہ نہیں پھر کیا کوئی ان کے حقیقی علم کا ادراک کر سکتا ہے ؟ امام غزالی اپنی کتاب "الاقتصاد فی الاعتقاد " میں لکھتے ہیں کہ۔" قرآن مجید کے سب معانی سمجھنے کی ہمیں تکلیف نہیں دی گئی۔۔۔مقطعات قرآن ایسے حروف یا الفاظ ہیں جو اہل عرب کی اصطلاح میں کسی معنی کے لئے موضوع علم الکلام اردو تر جمه الاقتصاد فی الاعتقاد صفحه ۶۶) نہیں۔“ تھیر جلالین میں مقطعات کے ذکر میں لکھا ہے واللہ اعلم بمرادہ یعنی اس مقطعہ کے مرادی معنے سے اللہ ہی واقف ہے۔ہم نے ابھی کہا ہے کہ بعض الہامات کی حقیقت واقعہ کے وقوع پر ہی کھلتی ہے۔اس کے ثبوت میں ہم جناب برق صاحب کی توجہ ان کے اپنے ایک قول کی طرف مبذول کرتے ہیں۔وہ اپنی کتاب ”بھائی بھائی" میں قرآن مجید کی آیات متشابہات کے متعلق لکھتے ہیں۔نزول قرآن کے وقت متشابہ آیات کی تعداد بہت زیادہ تھی بعد میں کچھ ایسے ارباب علم آئے جنہوں نے بعض آیات کو واضح کر کے محکم بنا دیا۔گذشتہ سوبرس سے علم میں حیرت انگیز اضافہ ہوا ہے جس کے بعد مزید آیات حل ہو گئیں۔مثلاً۔“ جب فرعون غرق ہو ا تھا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا۔