تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 452 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 452

۴۵۲ چنانچہ آپ تحریر فرماتے ہیں۔” دوسری بات جو اس وحی سے ثابت ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ طاعون اس حالت میں فرد ہو گی جب کہ لوگ خدا ئے فرستادہ کو قبول کر لیں گے اور کم سے کم یہ کہ شرارت اور ایذاء اور بد زبانی سے باز آجائیں گے۔کیونکہ براہین احمدیہ میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں آخری دنوں میں طاعون بھیجوں گا تا کہ میں ان خبیثوں اور شریروں کا منہ بند کر دوں جو میرے رسول کو گالیاں دیتے ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ محض انکار اس بات کا موجب نہیں ہوتا کہ ایک رسول کے انکار کی وجہ سے دنیا میں کوئی تباہی بھیجی جائے بلکہ لوگ شرافت اور تہذیب سے خدا کے رسول کا انکار کریں اور دست درازی اور بد زبانی نہ کریں تو ان کی سزا قیامت میں مقرر ہے اور جس قدر دنیا میں رسولوں کی حمایت میں مری بھیجی گئی ہے وہ محض انکار سے نہیں بلکہ شرارتوں کی سزا ہے۔اسی طرح اب بھی جب لوگ بد زبانی اور ظلم اور تعدی اور اپنی خباثتوں سے باز آجائیں گے اور شریفانہ برتاؤ ان میں پیدا ہو جائے گا۔تب یہ تنبیہ اٹھادی جائے گی۔مگر اس تقریب پر سعادتمند خدا کے رسول کو قبول کر لیں گے اور آسمانی برکتوں سے حصہ لیں گے اور زمین سعادتمندوں سے بھر جائے گی۔“ ( وافع البلاء صفحہ ۹، ۱۰) اس حوالہ سے ظاہر ہے کہ ملک سے طاعون کے دفع ہونے کے لئے حضرت اقدس نے صرف یہی شرط بیان نہیں فرمائی کہ سب لوگ آپ پر ایمان لائیں بلکہ شرافت کا طریق اختیار کرنا اور بد زبانی اور ایذاء دہی سے چنا بھی اسکا ایک علاج تحریر فرمایا۔گو اعلیٰ علاج ایمان لانا ہی بیان فرمایا ہے۔برق صاحب کا اعتراض مگر جناب برق صاحب حضرت اقدس کی اس عبارت کو اپنی کتاب پڑھنے والوں سے مخفی رکھ کر اور بعض نا مکمل عبار تیں پیش کر کے یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ