تحقیقِ عارفانہ — Page 446
۴۴۶ اس کا قائمقام اور اس کا شبیہ ہو گا۔پس خدا نے نہ چاہا دشمن خوش ہو اس لئے اس نے بمجر دوفات مبارک احمد کے ایک دوسرے لڑکے کی بشارت دی تا یہ سمجھا جائے۔کہ مبارک احمد فوت نہیں ہوا بلکہ زندہ ہے۔اشتهار ۵ نومبری ۱۹۰ء تبلیغ رسالت ج ۱ صفحه ۱۳۲) اس اقتباس پر جناب برق صاحب کا اعتراض یہ ہے۔لیکن ساڑھے پانچ ماہ بعد جناب مرزا صاحب کا انتقال ہو گیا اور ۱۹۰۴ء (ولادت دختر) کے بعد آپکی کوئی اولاد نہ ہوئی۔“ (حرف محرمانه صفحه ۲۹۲) الجواب الہام الہی میں جو مبارک احمد کی وفات پر ہوا یہ ہر گز مذکور نہیں کہ وہ لڑکا جس کا اس الہام میں ذکر ہے وہ آپ کا صلبی فرزند ہے۔غلام کا لفظ عربی زبان میں وسعت رکھتا ہے اور اس کا اطلاق ہوتے اور ذریت پر بھی ہوتا ہے۔ہماری تحقیق میں حضرت اقدس کے سابق کشوف اور الہامات سے خدا تعالیٰ کا آپ سے وعدہ صرف چار لڑکوں کے متعلق چلا آتا تھا اور اب وہ وعدہ جو انَّا نَبَشِّرُكَ بِغُلَامٍ حَلِيمٍ يَنْزِلُ مَنْزِلَ المبارک میں کیا گیا اس کا تعلق کسی نافلہ لڑکے یعنی پوتے ہی سے تھا۔جو مبارک احمد مرحوم کی فطری استعدادات کا حامل ہو کہ تنزل منزل المبارك کا مصداق بنے والا تھا۔ہ حضرت اقدس کے ایک الہام میں ہونے کے لئے بھی غلام کا لفظ استعمال ہوا ہے۔چنانچہ حقیقۃ الوحی صفحہ ۹۵ پر ایک الهام یوں درج ہے "انا نبشرك بغلام ناقلة لك لمس کا ترجمہ اس جگہ یہ درج کیا گیا ہے۔ہم ایک لڑکے کی تجھے بھارت دیتے ہیں جو تیرا پوتا ہو گا۔اس الہام میں پوتے کو بھی غلام (لڑکے ) کے لفظ سے بیان کیا گیا ہے۔منہ