تحقیقِ عارفانہ — Page 321
٣٢١ : كَذَّبَت قَوْمُ لُوطٍ المُرْسَلِينَ إِذْ قَالَ لَهُمْ أَعُوهُمْ لَوْطٌ أَلا تَتَّقُونَ إِلى لَكُمْ رَسُولُ آمِينٌ (۱۶۱ تا ۱۶۳) : - كَذَّبَتْ أَصْحَابُ التِّيكَةِ الْمُرْسَلِينَ إِذْ قَالَ لَهُمْ شُعَيْبٌ أَلَا تَتَّقُونَ إِنِّي لَكُمْ رَسُولُ آمِينُ۔(۱۷۷ تا ۱۷۹) ان آیات سے ظاہر ہے کہ حضرت نوح ، حضرت خود، حضرت صالح، حضرت لوط اور حضرت شعیب علیہم السلام کے منکرین کو صرف ایک ایک رسول کے انکار پر المرسلین کا انکار کرنے والے قرار دیا گیا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اپنے زمانہ میں ان میں سے ہر ایک رسول اپنے سے پہلے رسولوں کا قائمقام تھا اس لئے اس کے انکار کو صرف ایک رسول کا انکار قرار نہیں دیا گیا۔بلکہ تمام رسولوں کا انکار قرار دیا ہے۔اسی طرح آیت زیر بحث اذا الرسل أققت میں مسیح موعود کو آنحضرت ﷺ کے بروز کامل الرُّسُلُ ہونے کی وجہ سے الرسل کا قا ئمقام قرار دیا گیا ہے۔کیونکہ رسول کریم نے تمام انبیاء کے کمالات کے جامع تھے اس لئے آپ کو خاتم النبیین قرار دیا گیا۔جس کے مفہوم کا ایک پہلو یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ میں انبیاء کے تمام کمالات موجود تھے اور اس ایک نبی کی آمد تمام نبیوں کی آمد کے مترادف تھی۔چونکہ مسیح موعود آنحضرت ﷺ کا خلیفہ ہے اور امتی رسول بھی اس لئے اس کو اذا الرُّسُلُ أَقتَتُ میں تمام رسولوں کا قا ئمقام قرار دیا گیا ہے۔کیونکہ جس عظیم الشان نبی کے ماتحت وہ امتی رسول ہے وہ تمام انبیاء کے کمالات کے جامع اور ان کے قائمقام اور سردار ہیں۔اور یہ ان کا مظہر ہے۔( اللهم صلي على محمد و علی آل محمد فتدبر ولا تكن من المكابرين) اعتراض سوم برق صاحب لکھتے ہیں کہ :-