تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 319 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 319

٣١٩ مقررہ پر لائے جائیں گے۔اور یہ اشارہ در اصل مسیح موعود کے آنے کی طرف ہے۔اس پر برق صاحب لکھتے ہیں :- (شهادة القرآن صفحه ۲۴) مسیح موعود کی طرف اشارہ کیسے ہو سکتا ہے جب کہ الرسل جمع ہے اور مسیح موعود کا دعویٰ یہ ہے کہ امت محمدیہ میں صرف ایک رسول پیدا ہوا۔“ (حرف محرمانه صفحه ۲۴۰) اس آیت کی تفسیر میں برق صاحب کو اتنا تو مسلم ہے کہ اِذَا الرُّسُلُ أَقتَتُ قیامت کی علامات میں سے ہے۔مگر ایسا کہنے کے بعد پھر اس کو حشر کے دن پر لگا دیتے ہیں۔ان کی یہ بات ہماری سمجھ میں نہیں آئی۔کیونکہ علامات قیامت ان امور کو قرار دیا جاتا ہے جو قیامت سے پہلے ظاہر ہونے والی ہوں نہ کہ قیامت کے دن۔پس فرق صرف اتنا رہ گیا کہ حضرت مسیح موعود اس آیت کو واقعی قیامت کی علامت سمجھتے ہیں۔اور برق صاحب اسے قیامت کی علامات قرار دینے کے باوجود بلاوجہ حشر پر چسپاں کر رہے ہیں۔لہذا اگر ان پر واحد کیلئے جمع کے استعمال کا مسئلہ حل ہو جائے۔تو پھر انہیں اس آیت کے مسیح موعود سے متعلق ہونے میں کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہئے۔سو واضح ہو کہ واحد و جمع کا مسئلہ اس جگہ شہادۃ القرآن میں خود حضرت مسیح موعود نے حل فرما دیا ہے۔چنانچہ برق صاحب کی پیش کردہ عبارت سے آگے حضرت اقدس تحریر فرماتے ہیں :- یادر ہے کہ کلام اللہ میں رسل کا لفظ واحد پر بھی اطلاق پاتا ہے اور غیر رسول