تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 88 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 88

ΑΛ ہے۔مگر منصب نبوت پر فائز ہونا ضرورتِ زمانہ کے تقاضا پر موقوف تھا۔اس لئے آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ آپ کے اور نازل ہونے والے مسیح کے درمیان کوئی نبی نہیں۔نبی کے منصب پر کسی کو خدا تعالیٰ کبھی کھڑا کرتا ہے جب زمانہ کو ایک نبی کی ضرورت ہو۔بلا ضرورت کسی کو نبی بنا کر بھیجنا ایک عبث کام ہے۔جس کا خدا تعالیٰ مرتکب نہیں ہو سکتا۔آنحضرت ﷺ کی نبی تراش خاتم تبھی صاحب منصب نبی کے ظہور کیلئے مؤثر ہوتی ہے جب خدا تعالیٰ دنیا میں ایک نبی کے مبعوث کیا جانے کی ضرورت پاتا ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود خاتم النعیین کے معنی نبی تراش بیان کرنے کے ساتھ ہی تحریر فرماتے ہیں۔خداہر ایک بات پر قادر ہے جس پر اپنے بندوں میں سے چاہتا ہے اپنی روح ڈالتا ہے یعنی منصب نبوت خشتا ہے پس بہت برکتوں والا ہے جس نے اس اہندہ کو تعلیم دی اور بہت برکتوں والا ہے جس نے تعلیم پائی۔خدا نے وقت کی ضرورت محسوس کی اور اس کے محسوس کرنے اور نبوت کی مہر نے جس میں بعدت قوت فیضان ہے بڑا کام کیا۔یعنی تیرے مبعوث ہونے کے دوباعث ہیں۔“ (حقیقۃ الوحی صفحه ۹۶٬۹۵ طبع اوّل) پس جب تک خدا تعالیٰ کو یہ احساس نہ ہو کہ اس زمانہ میں ایک نبی کی ضرورت ہے اس وقت تک خاتم انہین کی نبی تراش مہر اپنا کام نہیں کرتی۔اسی احساس الی کے نتیجے میں حضرت مسیح موعود پر خاتم النبین کی نبی تراش مہر کا فیضان ہوا ہے پھر فرماتے ہیں۔" یہ وحی الہی کہ خدا کی میلنگ اور خدا کی مہر نے کتنا بڑا کام کیا ہے اس کے یہ معنی ہیں کہ خدا نے اس زمانہ میں محسوس کیا کہ یہ ایسا فاسد زمانہ آ گیا ہے جس میں ایک عظیم الشان مصلح کی ضرورت ہے اور خدا کی مہر نے یہ کیا کام کیا کہ آنحضرت ﷺ کی