تحقیقِ عارفانہ — Page 76
24 امت موسویہ کا خاتم الانبیاء قرار دیا گیا ہے۔وہاں اسکے مجازی معنی بنی اسرائیل کے نبیوں کا آخری فرد مراد ہیں کیونکہ حقیقی معنے جو تاثیر اشی ہیں یہاں محال ہیں۔کیونکہ حضرت عیسی کے اثر و فیض سے ان کے بعد کوئی نبی پیدا نہیں ہوا۔پھر ان عبارتوں میں جہاں حضرت اقدس نے اپنے تئیں خاتم الاولیاء قرار دیا ہے اور خطبہ الہامیہ میں ساتھ یہ بھی فرمایا ہے لا ولی بعدی۔وہاں خاتم الاولیاء کے حقیقی معنے مراد ہیں نہ کہ مجازی معنے۔برق صاحب نے دانستہ خطبہ الہامیہ صفحہ ۳۵ کا ادھورا حوالہ پیش کیا ہے۔پوری عبارت یوں ہے۔آنَا عَالَمُ الأَوْلِيَاء لَا وَلَى بَعْدِي إِلَّا الَّذِي هُوَ مِنِّى وَ عَلَى عَهْدِی یعنی میں خاتم الاولیاء ہوں میرے بعد کوئی ولی نہیں سوائے اس کے جو مجھ سے ہو اور میرے عہد پر ہو۔پس آپ کے خاتم الاولیاء ہونے کے یہ معنی ہوئے کہ آپ کے بعد ایسا شخص ولی نہیں ہو سکتا جو آپ سے فیض یافتہ نہ ہو اور آپ کا منکر ہو۔پس اس جگہ خاتم الاولیاء کے حقیقی معنی مراد ہیں یعنی ایسے مرتبہ کا ولی جس کے فیض واثر سے ولی پیدا ہوں۔اور اس کے منکر ولائت کا مقام پانے سے اس کا فیض نہ لینے کی وجہ سے محروم رہیں۔گویا خاتم الاولیاء کے معنی ولی تراش ہوئے جو خاتم السلمین کے معنی نبی تراش کے مطابق ہیں۔برق صاحب نے خاتم الاولیاء کے معنی خاتم الانبیاء سے مختلف دکھانے کے لئے دانستہ الا الَّذِي هُوَ مِنِّي وَعَلَى عَهْدِئُ کے الفاظ حذف کر دیئے ہیں۔کیونکہ اگر ان الفاظ کا وہ ذکر کر دیتے تو پھر اس حوالہ کو وہ بنائے اعتراض کے طور پیش نہیں کر سکتے تھے۔پس ان کا یہ طریق محققانہ نہیں بلکہ معاندانہ ہے اور اس وجہ سے ان کی کتاب حرف محرمانہ کی بجائے حرف مجرمانہ کہلانے کی مستحق ہے۔مسیح موعود کو خاتَمُ الخلفاء بھی حقیقی معنوں میں قرار دیا گیا ہے۔نہ کہ مجازی معنوں میں۔اگر آپ مجازی معنوں میں خاتم الخلفاء ہوتے تو پھر آپ کے ماننے