تحقیقِ عارفانہ — Page 75
۷۵ کو آخری خلیفہ اور خاتم الخلفاء کہا ہے۔اور چشمہ معرفت صفحہ ۳۲۴ میں آنحضرت عل ﷺ پر تمام نبو تیں ختم قرار دی ہیں۔(حرف محرمانہ صفحہ ۳۹،۳۷) ان حوالہ جات کو پیش کر کے برق صاحب کہتے ہیں۔" کیا یہ عجیب بات نہیں کہ جناب مرزا صاحب نے لفظ خاتم کو باقی ہر مقام پر آخری کے معنوں میں استعمال کیا ہے۔لیکن جب خاتم النعیین کی تغییر کرنے لگے تو فرمایا۔“ اسی وجہ سے آپ کا نام خاتم النبیین شھر ا یعنی آپ کی پیرومی کمالات نبوت بخشتی ہے۔اور آپ کی توجہ روحانی نبی تراش ہے۔“ (حقیقۃ الوحی حاشیہ صفحہ ۹۷ طبع اوّل) اور اس سے عجیب تریہ کہ جب اپنے میں خاتم الخلفاء والانبیاء قرار دیتے۔ہیں۔( خاتم الانبیاء نہیں بلکہ خاتم الاولیاء ناقل) تو لفظ خاتم کو پھر آخری کے معنوں میں استعمال کرتے ہیں۔“ الجواب ان حوالہ جات کے متعلق عرض ہے کہ خاتم کا لفظ جمع کی طرف مضاف ہو کر زبان عربی میں حقیقی معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے۔اور مجازی معنوں میں بھی جیسا کہ ہم مفردات راغب کے حوالہ سے پہلے بیان کر چکے ہیں کہ ختم کے مصدری معنی طبع کی طرح نائیر الشئ ہیں۔اور بندش اور اثر حاصل اور آخری کے معنے مجازی ہیں۔چونکہ عربی زبان میں خاتم کا لفظ جمع کی طرف مضاف ہو کر حقیقی اور مجازی دونوں معنوں میں استعمال ہوتا ہے لہذا اس امر کو نہ جاننے کی وجہ سے جناب برقی صاحب پر دونوں قسم کی عبارتیں ملتبس ہو گئی ہیں۔ان عبارتوں میں جہاں عیسی کو بنی اسرائیل یا