تحقیقِ عارفانہ — Page 74
۷۴ اور اس طرح تفریط کی راہ پر گامزن رہنا چاہتے ہیں۔احمدی خدا تعالی کے فضل سے چونکہ خاتم النبیین کی تفسیر میں اعتدال کی راہ پر گامزن ہیں۔اس لئے وہ حدیث (۱) کو عَاشَ إِبْرَاهِيمُ لَكَان صديقاً نَبِيَّاً (۲) اور حديث أبو بَكْرٍ أَفْضَلُ هَذِهِ الْأُمَّةِ إِلَّا انْ يكُونَ نَبِي - (۳) اور حدیث أَبُو بَكْرِ خَيْرُ النَّاسِ بَعْدِي الْايَكُونَ نَبِيُّ - (۴) اور حديث نَبيُّهَا مِنْهَا۔کو بھی درست مانتے ہیں۔اور ان حدیثوں کو خاتم النبیین کے مثبت اور ایجائی پہلو کی تفسیر یقین کرتے ہیں۔جس کا ماحصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے فیض واثر سے آپ کا ایک امتی مقام نبوت حاصل کر سکتا ہے۔اور پھر احمد کی ان احادیث کو بھی مانتے ہیں جنہیں برق صاحب نے انقطاع نبوت کے ثبوت میں پیش کیا ہے۔اور ایسی حدیثوں کو آیت خاتم النبیین کے منفی اور مسلبی پہلو کی تفسیر یقین کرتے ہیں۔جس الله کا مفاد علمائے امت کی تشریح کے مطابق یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی تشریعی اور مستقل نبی نہیں آسکتا۔پس یہ اعتدال کی راہ ہی صحیح راہ ہے۔کیونکہ یہ افراط و تفریط سے پاک ہے اور خدا تعالی کی رضا اور منشاء کے مطابق ہے۔فالحمد لله على ذالك خاتم کا استعمال حضرت مسیح موعود کی تحریرات میں برق صاحب نے بعض حوالہ جات حضرت مسیح موعود کے پیش کئے ہیں۔جن میں حضرت عیسی کو موسیٰ کی قوم کا خاتم الانبیاء تحفہ گولڑویہ صفحہ ۳۶ طبع اوّل اور اپنے میں امت کا خاتم الاولیاء صفحہ ۳۹ اور خاتم خلفاء محمد یہ صفحہ ۹۲ قرار دیا ہے۔اور انجام آتھم میں لکھا ہے۔ہمارے نبی ﷺ خاتم الانبیاء ہیں۔آپ کے بعد کوئی نبی نہ آئیگا۔نہ نیا نہ پرانا۔پھر حضرت عیسی کو خطبہ الہامیہ میں امت موسویہ کا خاتم الانبیاء قرار دیا ہے (خطبہ الہامیہ صفحہ ۴۰ طبع اول) اور اپنے متعلق لکھا ہے۔آنَا عَاتَمُ الأولياء لا ولِي بَعْدِئُ ( خطبہ الہامیہ صفحہ ۳۵ طبع اوّل) پھر حقیقۃ الوحی میں مسیح موعود