تحقیقِ عارفانہ — Page 66
۶۶ غالب میں آخری یعنی ہمیشہ کے لئے عدیم المثال ہے خرید لیا ہے۔انہی معنوں میں امام جلال الدین سیوطی نے امام ابن تیمیه کو آخر المجتهدين ن لکھا ہے۔الاشباه والنظائر جلد ۳ صفحه ۳۱۰ مطبوعه حیدر آباد) حدیث قَالَ آدَمُ مَنْ مُحَمَّدٌ قَالَ آخِرَ وَلُدِكَ مِنَ الانبياء (ابن عساكر ) ابن عساکر کی اس روائت میں الانبیاء کا الف لام عہد کا ہے۔مراد یہ ہے کہ مستقل انبیاء میں سے آنحضرت ﷺ آخری نبی ہیں۔“ حدیث ہفتم برق صاحب نے ان الفاظ میں درج کی ہے۔،، يَا اَبا ذَرِّ أَوَّلُ الاَ نُبِيَاءِ آدَمُ وَآخِرِهُم مُحَمَّدٌ۔“ یہ دونوں حدیثیں چوتھے طبقہ کی ہیں جنہیں حجت قرار نہیں دیا جاتا۔تا ہم یہ ہمارے مدعا کے خلاف نہیں۔کیونکہ ان میں آنحضرت ﷺ کو مستقل انبیاء میں سے آخری نبی قرار دیا گیا ہے۔کیونکہ آدم مستقل نبی تھے جن سے مستقل انبیاء کا سلسلہ شروع ہوا۔پس اسی سلسلہ کے آنحضرت ﷺ آخری فرد ہیں۔ورنہ امت محمدیہ کے اندر نبوت کا امکان تو دوسری حدیثوں سے ثابت کیا جاچکا ہے اور ایک حدیث کے الفاظ " نَبيُّهَا مِنْهَا " کہ اس امت کا نبی اس امت میں سے ہو گا۔اس بات پر نص صریح ہیں چونکہ امت کے اندر ہونے والے نبی کی نبوت آنحضرت ﷺ کی نبوت کا ظل ہے اس لئے ظلیت کے آئینہ میں وہ اصل سے اتحاد ر کھتا ہے۔لہذا ظلی نبی کے ظہور سے کسی جدید نبوت کا پایا جانا لازم نہیں آتا کیونکہ یہ نبوت تو نبوت محمدیہ کا عکس ہوتی ہے۔جس طرح ماتحت عدالتوں کا پایا جاتا سپریم کورٹ آخری عدالت ہونے کے خلاف نہیں ہوتا