تحقیقِ عارفانہ — Page 696
۶۹۶ برق صاحب کا یہ قول بالکل غلط ہے کہ احادیث بقول مرزا ظنی کور ساقط عن الاعتبار ہیں۔حضرت اقدس علیہ السلام نے حدیثوں کے متعلق کبھی ایسا کلمہ نہیں کہا۔چنانچہ مسیح موعود کی آمد سے متعلقہ احادیث کو بھی جو بخاری میں بیان ہوئی ہیں آپ درست سمجھتے ہیں اور دعویٰ کی تائید میں پیش کرتے ہیں۔(۳) ہم نے ثابت کر دیا ہے کہ حضرت اقدس علیہ السلام نے جس جس جگہ بھی نبوت سے انکار کیا ہے صرف مستقل اور تشریعی نبوت سے انکار کیا ہے۔آنحضرت ﷺ کی اطاعت میں نبی اور رسول کا نام پانے سے آپ نے کبھی انکار نہیں فرمایا۔اور مراد اس نبوت اور رسالت سے خدا تعالیٰ کی طرف سے امور غیبیہ کثیرہ پر اطلاع پانا قرار دیا ہے۔خود برقی صاحب یہ اقرار کر چکے ہیں :- ازالہ اوہام ستمبر ۱۸۹۱ء کی تصنیف ہے اور مرزا صاحب کا دعوئی رسالت کم از کم بیس برس پہلے کا تھا۔“ (حرف محرمانه صفحه ۴۴) اگر برق صاحب کی یہ بات درست ہے تو صاف ظاہر ہے کہ ۱۹۰۲ء سے پہلے بھی آپ اپنے تئیں رسول قرار دیتے رہے ہیں اور بقول برق صاحب آپ کا یہ دعوی اس ۸اء سے ہے۔حساب شماری میں برق صاحب کو کچھ غلطی ہوئی ہے۔کیونکہ پبلک میں آپ کا دعوی براہین احمدیہ کے زمانہ سے آیا ہے تا ہم براہین احمدیہ کی اشاعت کے وقت خدا تعالی کی طرف سے آپ کو نبی اور رسول قرار دے دیا گیا تھا۔لہذا آپ نے جس قسم کے دعویٰ نبوت کو خروج از اسلام قرار دیاوہ تشریعی اور مستقلہ نبوت ہے نہ کہ نبوت جزئیہ کا دعویٰ۔ہاں انشاء سے آپ پر اپنی نبوت کے بارے میں جو جدید انکشاف ہوا اس کی وضاحت ہم متعلقہ باب میں کر چکے ہیں۔