تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 689 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 689

۶۸۹ یہ ترجمہ بالکل غلط ہے۔اور اس جگہ برق صاحب نے عبارت بھی ادھوری پیش کی ہے۔اس فقرے کا آغاز ان الفاظ سے ہوتا ہے :- كُلِّ مُسْلِمٍ يَقْبَلُنِي وَ يُصَدِّقُ دَعْوَتِي 66 ان الفاظ میں ایک پیشگوئی ہے۔بقبلنی اور يُصدق مضارع کے صیغے ہیں جو مستقبل پر دلالت کرتے ہیں۔مراد آپ کی یہ ہے کہ ایک وقت آرہا ہے کہ ہر ایک مسلمان آپ کو قبول کرے گا۔اور آپ کی تصدیق کرنے لگے گا۔اور اس وقت منکرین میں سے صرف ذرية البغایا سر کش لوگ رہ جائیں گے۔جن کے دلوں پر مہر لگی ہو گی۔پس اس عبارت میں حضرت اقدس نے آئندہ زمانہ کی ایک پیشگوئی کا ذکر فرمایا ہے۔اسی طرح برقی صاحب نے " مجم البدئی صفحہ 10 کی عبارت لکھی ہے :- "دشمن ہمارے بیابانوں کے خنزیر ہو گئے ان کی عورتیں کتوں سے بڑھ گئیں۔" (حرف محرمانه صفحه ۴۲۸) یہ ایک شعر کا ترجمہ ہے جو ان عیسائی عورتوں اور مردوں کے متعلق ہے جو نبی کریم عملے کے متعلق گند اچھالتے تھے۔اور آپ کو گالیاں دیتے ہیں۔ایسے لوگوں کو جو کسی نبی کے خلاف زبان طعن دراز کریں قرآن کریم نے بھی کئے اور سؤر قرار دیا ہے۔لیکن برق صاحب سیاق کلام کو چھپاتے ہیں۔اور خاص لوگوں سے تعلق رکھنے والی عبارت کو عام مفہوم میں دکھا کر حضرت اقدس کے خلاف مسلمانوں میں اشتعال پیدا کرنا چاہتے ہیں۔حالانکہ اس سے اگلا شعر مجسم الہدی کا یوں ہے :- سبُوا وَمَا أَدْرِئُ لِأَيِّ جَرِيمَةٍ سبُّوا انعصى الحِبِّ أَوْ نَتَجَنَّبْ ترجمہ : انہوں نے (آنحضرت مے کو ) گالیاں دی ہیں اور ہم نہیں جانتے کہ کس جرم کی وجہ سے دی ہیں۔تو کیا ہم اپنے محبوب ( محمد مصطفے میں ) کی نا فرمانی کرنے لگ