تحقیقِ عارفانہ — Page 684
۲۸۴ ان کی عزت کرتے ہیں۔بلکہ بھائیوں کی طرح ان سے محبت کرتے ہیں۔لجه النور ترجمه از عربی) جناب برق صاحب نے "شہادۃ القرآن صفحہ ااسے حضرت اقدس کی سخت کلامی کا نمونہ پیش کرنے کے لئے ایک عبارت یوں نقل کی ہے :- پھر فرمایا کہ اس امت پر ایک آخری زمانہ آنگا کہ علماء اس امت کے یہود کے مشابہ ہو جائیگئے یہاں تک کہ اگر کسی یہود نے اپنی ماں کے ساتھ زنا کیا ہے تو وہ بھی کرے گا۔“ (حرف محرمانه صفحه ۴۲۲) یہ الفاظ دراصل حضرت مرزا صاحب کے نہیں ہیں بلکہ یہ ایک حدیث نبوی کا ترجمہ ہیں۔اس عبارت میں ”پھر فرمایا“ کے الفاظ اس پر شاہد تھے کہ اس جگہ رسول کریم ﷺ کی ایک حدیث بیان ہو رہی ہے۔معلوم ہوتا ہے جناب برق صاحب نے حضرت اقدس کی کتابوں کا خود مطالعہ کر کے تنقید نہیں فرمائی بلکہ مخالفوں کی کتابوں سے حوالہ جات اچک لئے ہیں۔غالباً اسی وجہ سے انہوں نے اس عبارت کو حضرت مرزا صاحب کا کلام قرار دیدیا ہے۔حالانکہ یہ کلام حضرت سرور کائنات فخر موجودات سید ولد آدم حضرت محمد مصطفے ﷺ کا ہے اس میں کوئی گالی نہیں دی گئی بلکہ آخری زمانہ کے مسلمانوں کی حالت کا صحیح نقشہ کھینچا ہے اور انہیں یہود سے مشابہ قرار دیا ہے۔درمیانی عبارت برق صاحب نے چھوڑ دی ہے جس میں یہود کا ذکر ہے۔انہیں کی حالت مَنْ أَتَى عَلَى أُمِّہ کے الفاظ میں ماں سے زنا کرنے کے متعلق بیان ہوئی ہے۔اسی طرح آخری زمانہ کے بعض علماء کی حالت آنحضرت ﷺ نے ان الفاظ میں بیان فرمائی ہے۔"عُلَمَاءُ هُمُ شَرُّ مَنْ تَحْت أَدِيمِ السَّمَاءِ کہ اس زمانہ کے علماء آسمان کے نیچے بد ترین مخلوق ہونگے۔اسی کے پیش نظر حضرت اقدس نے آپکو گالیاں