تحقیقِ عارفانہ — Page 683
۲۸۳ الفاظ سنکر خوش نہ تھے بلکہ مشتعل ہوتے تھے۔لیکن خدا تعالیٰ نے ان کے ان اندرونی گندوں کو ظاہر کرنے کے لئے اس قسم کے الفاظ استعمال کر نے سے احتراز نہیں فرمایا بلکہ ”الكناية ابلغ من التقريح“ کے مطابق ایسے استعارات کو جنہیں مخالفین اسلام گالیاں سمجھتے تھے اظہار حقیقت کے لئے زیادہ بلیغ طریق سمجھا۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے بھی اپنے زمانہ کے بعض گندہ دہن مخالفین کے لئے جو گالیوں میں انتہا تک پہنچ جاتے تھے کسی قدر سختی سے جواب دیا ہے تا مخالفین کو یہ احساس پیدا ہو کہ سخت الفاظ کس قدر دکھ دیتے ہیں۔اور وہ سخت کلامی سے باز آجائیں۔جوائی طور پر جو سخت الفاظ آپ نے استعمال کئے ہیں۔وہ مخالفین کے مقابلہ میں خلاف واقعہ نہیں تھے بلکہ اس سے ان کی بد زبانیوں اور بد کرداریوں کی حقیقت کا ہی اظہار ہوتا تھا۔مگر اس قسم کے الفاظ بعض مخصوص لوگوں کے لئے ہوتے تھے جنہیں اس زمانہ کے لوگ خوب جانتے تھے۔حضرت اقدس " لیام الصلح کے ٹائیٹل پیج کے صفحہ ۲ پر تحریر فرماتے ہیں :- ”ہماری اس کتاب اور دوسری کتابوں میں کوئی لفظ یا کوئی اشارہ ایسے معزز لوگوں کی طرف نہیں ہے جو بد زبانی اور کمینگی کے طریق کو اختیار نہیں کرتے۔“ اور اپنی کتاب ”حجۃ النور “ میں فرماتے ہیں :- ہم صالح علماء اور مہذب شرفاء کی بنک سے خدا کی پناہ مانگتے ہیں خواہ وہ مسلمانوں میں سے ہوں یا عیسائیوں میں سے یا آریوں میں سے۔ہمارے نزدیک وہ سب قابل عزت ہیں بلکہ ہمیں تو ان کے بیوقوفوں سے بھی واسطہ نہیں۔ہمارے مخاطب تو۔صرف وہی لوگ ہیں جو اپنی بد زبانی اور گندہ دہانی کی وجہ سے مشہور ہو چکے ہیں۔ورنہ جو لوگ نیک ہیں اور بد زبان نہیں ہیں ان کا ذکر ہم ہمیشہ بھلائی کے ساتھ کرتے ہیں۔اور