تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 682 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 682

۶۸۲ فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ الْكَلْبِ إِنْ تَحْمِلُ عَلَيْهِ يَلْهَتْ اَوْ تَتْرُ كُهُ يَلْهَتْ - (اعراف : ۱۷۷) کہ اس کی مثال کتے کی سی ہے۔اگر تو اسپر حملہ کرے تب بھی زبان نکالتا ہے اور اگر تو اسے چھوڑ دے تب بھی نکالتا ہے۔۔اور بتوں اور ان کے پرستاروں کے متعلق فرمایا :- إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِن دُون اللهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ وَأَنتُمْ لَهَا وَاردُونَ ) (انبیاء : ٩٩) تم اور تمہارے معبود سب آگ کا ایندھن ہیں اور تم سب اس میں داخل ہونے والے ہو۔بتوں کی مذمت میں اس قسم کی آیات سن کر مشرکین میں جوش پیدا ہوا۔اور وہ سخت اشتعال کی حالت میں بصورت وفد آنحضرت ﷺ کے کفیل اور چچا ابو طالب کے پاس آئے اور کہا کہ تمہارا بھتیجا ہمارے قابل احترام معبودوں کی تحقیر کرتا ہے اور انہیں گالیاں دیتا ہے اور اس کا یہ رویہ ہمارے لئے نا قابل برداشت ہے۔چنانچہ تاریخ طبری میں آتا ہے کہ عقبہ اور شیبہ۔ولید اور ابو جهل و غیره اشراف قریش کا وفد ابو طالب کے پاس آیا اور کہا :- "قَدْ شَتَمَ الهَتَنَا وَعَابَ دِينَنَا وَ سَفِهَ أَحْلَامَنَا وَصَلَلَّ آبَاءَ نَا۔“ کہ تمہارے بھیجے نے ہمارے معبودوں کو گالیاں دی ہیں۔ہمارے دین کو عیب لگایا ہے۔اور ہمیں اور ہمارے آباؤ اجداد کو دیو قوف اور گمراہ کہا ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ یا تو اپنے بھتیجے کو سخت کلامی سے باز رکھو یا اس سے علیحدہ ہو جاؤ ہم اس سے نپٹ لیں گے۔ورنہ قوم سے مقابلہ کے لئے تیار ہو جاؤ۔اسی طرح یہود اور عیسائی بھی اپنے متعلق بندر اور سور اور بد ترین مخلوق۔گدھے کے شیل کے