تحقیقِ عارفانہ — Page 680
۶۸۰ کا فرنہ کہا جائے تو اور کیا کہا جائے۔گدھے کو گدھا کہنے سے اس کی توہین نہیں ہوتی۔“ ( حرف محرمانه صفحه ۴۱۸) اس عبارت کے جس حصہ پر ہم نے خط کھینچ دیا ہے یہ برق صاحب کی پیش کردہ ان تمام عبارتوں کا جواب ہے جو انہوں نے حضرت مسیح موعود کی تلخ کلامی درشت زبانی کے متعلق پیش کی ہیں۔ان عبارتوں میں بھی قطعا کوئی گالی نہیں دی گئی بلکہ یہ حقیقت بیانی پر مشتمل ہیں اور اس وقت لکھی گئی ہیں جبکہ آپ کے مخالفوں نے آپ کے خلاف تکفیر و تفسیق اور دشنام وہی کا غلیظ گندا چھالا۔ایسے لوگوں کے گند کو ہم نقل نہیں کر سکتے۔افسوس ہے کہ جناب برق صاحب نے اس حملے میں بھی محققانہ انداز اختیار نہیں کیا۔اگر مخالفوں کی سخت کلامی اور تلخ الفاظ بھی وہ بالمقابل نقل کر دیتے جن کے جواب میں حضور نے یہ عبارتیں جزاء سيئة سيئة مثلھا کے قرآنی ارشاد کے مطابق لکھی تھیں۔تو پھر ان کا مزعومہ حملہ ناکارہ ہو کر رہ جاتا۔برق صاحب کہتے ہیں کہ قرآن وحدیث نے حقیقت بیانی سے کام لیا ہے نہ گالی گلوچ سے۔ہمیں ان سے پورا اتفاق ہے اور ان کے جواب میں ہم بھی یہی کہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود نے ہر گز گالی گلوچ سے کام نہیں لیا۔وہ کہتے ہیں آنحضرت ﷺ نے کسی کو دجال یا سور نہیں کہا۔لیکن کیا وہ اس حقیقت کو چھپا سکتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے خود و جال اکبر کی پیشگوئی فرمائی۔حضرت مسیح موعود نے تو صرف اس پیشگوئی کا عیسائی پادریوں پر اطلاق فرمایا۔یا ان کے ہموا بعض علماء کے متعلق یہ لفظ استعمال فرمایا ہے۔خود بھی جناب برق صاحب نے تمام انگریز قوم اور ان کے فرماں رواؤں کو دجال کی پیشگوئی کا مصداق قرار دے دیا ہے تو اعتراض کیسا؟ پھر قرآن کریم نے قوم یہود کے متعلق عام الفاظ میں کہا ہے۔