تحقیقِ عارفانہ — Page 676
724 ١- عيشة راضية۔ہوتی ہے۔(القارعة : ٨) بظاہر مرضیة چاہیئے کیونکہ عیش راضی نہیں ہوتی بلکہ مرضیة یعنی پسندیدہ ۱۲ - إِنَّهُ كَانَ وَعُدُهُ ماتيا- مانیا تو اسم مفعول ہے۔بظاہر اتیا چاہیے۔(مریم آیت ۶۲) اسی طرح قرآن میں وارد ہے حجاباً مستورا۔حجاب کو مستور قرار دیا گیا ہے حالانکہ وہ خود ساتر ہوتا ہے بظاہر مستور اسم مفعول کی جگہ ساتر اسم فاعل کا استعمال چاہئے۔١٣ وَاتَّبَعُوا مَا تَتْلُوا الشَّيْطين - (بقره: ۱۰۳) میں شیاطین کے پڑھنے کا پرانا قصہ بیان ہوا ہے اس لئے ابظاہر تتلوا مضارع کی جائے تلت ماضی چاہئے۔آیت لِمَ تَقْتُلُونَ أَنْبِيَاءَ اللهِ مِنْ قَبْلُ (بقره : ٩٢) بقرنيه مِنْ قَبْلُ بظاہر لِمَ (النساء : ۵) نفساً تاکید ہے۔طبن جمع مؤنث کے لئے قاعدہ کے مطابق تاکید انفسهن قتلتُم آنا چاہیئے تھا۔- -۱۵ إِن طِبْنَ لَكُم عَنْ شَيْ ءٍ منه نفساً - ء آنی چاہیئے تھی۔-١٢ ثُمَّ يُخر حُكُمُ طِفلاً - م جمع کی ضمیر کی مناسبت سے بظاہر اطفالاً آنا چاہیئے۔ا يايها النبي إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ النبی مفرد ہے اس کی مناسبت سے بظاہر طلقت آنا چاہیئے۔١٨- وَالْمَلَئِكَةُ بَعْدَ ذَالِكَ ظَهير - (مومن : ۶۸) (الطلاق : ۲) ( تحریم : ۵) ملائکہ جمع مکسر ہے اور اس کے لئے ظہیرہ کی بجائے وصف ظہیر واحد مذکر