تحقیقِ عارفانہ — Page 675
۶۷۵ اس میں اللہ اور رسول تثنیہ کیلئے برضوہ میں مفرد کی ضمیر راجع کی گئی ہے۔اسکا آپ کے پاس کیا جواب ہے ؟ - سورۃ نساء آیت ۱۶۳ میں آیا ہے :- لكن الرّاسِحُونَ فِى العِلْمِ مِنهُم وَالْمُؤْمِنُونَ يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ وَالْمُقِيمِينَ الصَّلوةَ وَالْمُؤتُونَ الزَّكَوةَ وَالْمُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الأخير اس آیت میں والمُقِيمُونَ الصَّلوة کو منصوب استعمال کیا گیا ہے اور اس سے پہلے المومنون کو مرفوع اور اس کے بعد والمؤتُونَ الزَّكَوةَ وَالْمُؤْمِنُونَ بِاللَّه کو بھی مرفوع استعمال کیا گیا ہے اور یہ سب عطف کے سلسلہ سے وابستہ ہیں۔عام قاعدے کے لحاظ سے والمقيمون الصلوة چاہیے۔بتائے آپ کے پاس اس کا کیا جواب ہے ؟ - فِي الْفُلْكِ الْمَسْحُون (یونس (۴۲) میں فلک کو مذکر قرار دیا گیا ہے مگر والفلك التي تجرى فى البحر ( حج ۶۶) میں فلک کو مؤنث استعمال کیا گیا ہے۔آخر کچھ تو وجہ ہے۔- وَإِنْ كنتم جُنَّبًا فَاطَّهَّرُوا۔(المائدہ آیت ۷ ) مخاطب سب افراد ہیں اور جنباً مفرد استعمال کیا گیا ہے۔اور اسی طرح فَإِنَّهُمُ عَدُولِى الارب العالمین (شعراء آیت ۷۸ ) میں بھی۔- فَلَا يُحْرِ جَنَكُمَا مِنَ الْجَنَّةِ فَتَشْقَى - (طه آیت ۱۱۸) كما تثنیہ کی ضمیر ہے اور اس کے بعد فعل تشفی واحد مذکر لایا گیا ہے۔بظاہر منشقیا آنا چاہئے۔١٠- لَا عَاصِمَ الْيَوْمَ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ ابظاہر لا معصوم چاہیئے۔(هود : ۴۴)