تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 674 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 674

۶۷۴ عربی زبان کی وسعت کے پیش نظر محض انکی جہالت کا مظاہرہ ہیں۔مثلاً - قرآن شریف میں آیا ہے۔حضتُم كَالَّذِی خاضوا۔اور اس پر یہ اعتراض کیا ہے که الذي موصول کا استعمال غلط ہے۔خاضوا جمع کے صیغہ کے لحاظ سے اسم موصول الذین چاہیے کیونکہ الذی مفرد ہے اور خاضوا جمع ہے۔بتائے برق صاحب ! آپ کے پاس اس کا کیا جواب ہے ؟ آخر آپ کو اس جگہ تبدیل ہی کرنا پڑے گی۔- سورۃ محل کی آیت ۶۷ میں آیا ہے۔وان لَكُمْ فِي الْأَنْعَامِ لَعِبْرَةً نُسَقِيكُمُ مِمَّا فِي بُطُونِهِ مِن بَيْنِ فَرَتْ وَّ دَم لبناً خَالِصًا سَائِغاً لِلشَّارِينَ اس پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ الانعام جمع مکسر ہے اس کی طرف مؤنث کی ضمیر کی جائے فی بطو نہ" میں مذکر کی ضمیر راجع کی گئی ہے۔حالانکہ سورۃ مومنوں کی آيت وَإِنَّ لَكُمْ فِى الأَنْعَامِ لَعِبُرَةً نُسَقِيكُمُ مِمَّا فِي بُطُونِهَا میں خود قرآن کریم میں ہی انعام کی طرف ھا مؤنث کی ضمیر بھی راجع کی گئی ہے۔اس تضاد کا برق صاحب کے پاس کیا جواب ہے ؟ ۳- سورۃ یوسف میں آیا ہے :- قَالَ نِسْوَةً فِي الْمَدِينَةِ “ حالانکہ نسوة مؤنث حقیقی ہے جس کے لئے قال مذکر کا فعل استعمال کیا گیا ہے۔فرمائیے اس کا کیا جواب ہے ؟ - پھر سورۃ حج آیت ۲۰ میں وارد ہے :- " هذان خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِى ربِّهم۔خصمان تثنیہ ہے۔اس کے لئے فعل جمع کا استعمال کیا گیا ہے بظاہر اختصما چاہیے۔- وَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَحَقُّ أَنْ يُرِضُوهُ (سورۃ توبه آیت ۶۲)