تحقیقِ عارفانہ — Page 670
بلكم أحبك ہے۔یعنی ان کے مصفر امی کو کاف ضمیر خطاب کی طرف مضاف کیا گیا ہے۔اسم تصغیر پیار کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے اور تحقیر کے لئے بھی۔اس فقرہ میں بكبر منك كے الفاظ اس بات کے لئے قرینہ ہیں کہ یہ لفظ متکبر کے نقطہ نگاہ کے لحاظ سے جو اپنے بھائی کو حقیر سمجھتا ہے بطور مصغر مضاف أحبك استعمال کیا گیا ہے۔چنانچہ اس کے بعد کی عبارت میں اس بھائی کو جسے وہ اپنے کبر کی وجہ سے حقیر سمجھتا ہے یہ ہدایت کی گئی ہے کہ :- ”اسے اپنے کلمات سے مجروح نہ کر بلکہ تجھ پر واجب ہے کہ تیر اوہ بھائی جو تجھے غصہ دلا رہا ہے اس سے تواضع سے پیش آاور گفتگو میں اس کی تحقیر نہ کر۔اور مرنے سے پہلے مر جا۔اور اپنے آپ کو مردوں میں شمار کر (یعنی نفس کی فربہی اور کبر چھوڑ دے) جو شخص بھی تیرے پاس آئے خواہ وہ پھٹے پرانے لباس میں آئے اس کی تعظیم کر۔" پس سیاق و سباق اس جگہ قرینہ ہے کہ زیر بحث لفظ أحبك نہیں بلکہ احبك ہے۔برق صاحب! آپ احبك پریوں (الجيك) اعرابی الف دیگر امتحان بھی پڑھ سکتے تھے مگر آپکو تو اعتراض کرنا تھا؟ چوبشنوی سخن اهل دل مگو که خطا است کن شناس نه دلبر اخطا اینجاست اعتراض نمبر ۱۴ تَمَرَاتِ الْجَنَّةِ فَويُلُ لِلَّذِي تَرَكَهُمُ (صفحه ۱۷۰) برق صاحب کو اس پر اعتراض ہے :- ترکھم غلط ہے۔ثمرات جمع مکسر ہونے کی وجہ سے مؤنث ہے اس لئے تر کھا صحیح ہے۔“ (حرف محرمانه صفحه ۴۱۵)