تحقیقِ عارفانہ — Page 656
ترجمہ : میں نے اس کتاب کا نام "اعجاز اسح" رکھا ہے اور یہ مطبع ضیاء الاسلام میں رمضان کے مہینہ سے ستر دن میں طبع ہوئی ہے اور ہجری کا سن ۱۳۱۸ تھا۔اس عبارت کا مطلب یہ ہے کہ یہ کتاب رمضان کے مہینہ کے شروع سے ستر دن میں مطبع ضیاء الاسلام میں طبع ہوئی ہے۔من شهر الصیام کے الفاظ میں من ابتدائیہ استعمال ہوا ہے۔پس ”رمضان کے ستر دن“ ان الفاظ کا ترجمہ درست نہیں۔بلکہ رمضان کے مہینہ سے شروع ہو کر سترون میں اس کے طبع ہونے کا ذکر ہے۔اعتراض نمبر ۲ چاہیئے۔الجواب مَا قَبَلُونِى مِنَ الْبُخْلِ صفحہ ۸خل کا استعمال خالص پنجائی ہے۔حسد (حرف محرمانه صفحه ۴۱۳) پوری عبارت یوں ہے۔وورد۔بَيْدَ أَنَّ بَعْضَ علماء هذه الديارِ مَا قَبلُو نِى مِنَ الْبُخْلِ وَ الِاسْتِكَبَارِ 66 فما ظَلَمُونَا وَ لكِن ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ حَسَداً وَاسْتِعْلَاء۔“ ترجمہ :۔مگر اس ملک کے بعض علماء نے مجھے بخل اور تکبر کی وجہ سے قبول نہیں کیا۔پس انہوں نے ہم پر کوئی ظلم نہیں کیا اور انہوں نے اپنی جان پر ہی حسد اور تکبر سے ظلم کیا۔ہم نہیں سمجھ سکتے کہ عقل کا استعمال پنجابی کیوں ہے۔جبکہ انکار کی وجہ محض مخل ہی قرار نہیں دی گئی بلکہ اس کے ساتھ حسد اور استکبار کا ذکر بھی موجود ہے۔اور مخل اور استکبار اور حسد تینوں کو وجہ انکار قرار دیا گیا ہے۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔