تحقیقِ عارفانہ — Page 652
۶۵۲ برق صاحب الیجیئے آپ کو شعر میں منصوب کو مرفوع استعمال کرنے کی بھی مثال بتا دیتے ہیں۔سینیئے ! حضرت علیؓ کا ایک شعر ہے۔وَكَمْ سَاعِي لِيَشْرِئَ لَمْ يَنَلْهُ وَآخَرُ مَا سَعَى لَحِقَ الشَّراءِ الشراء دراصل لحق کا مفعول یہ ہے جسے قاعدہ نحویہ کے مطابق الشراء منصوب ہونا چاہیئے تھا مگر حضرت علی نے اسے ضرورت شعر کے لئے مرفوع استعمال فرمایا ہے۔-: (دیوان حضرت علی (مترجم) ا كَانَ شَفِيعُ الانبياء موتر (اعجاز احمدی صفحه ۶۸ طبع اول) برق صاحب کا اعتراض اس مصرع پر یہ ہے کہ موثر شفیع پر معطوف ہے اس لئے موثر ا چاہیئے۔الجواب (حرف محرمانه صفحه ۴۱۲) جناب برق صاحب ! یہاں بھی کان شانیہ ہے اور شفیع سے پہلے مو ضمیر شان محذوف ہے۔شفیع الانبیاء ھو کی خبر مرفوع ہے اور اس پر موٹر کا عطف ہے۔اس لئے موثر مر فوع استعمال ہوا ہے۔ھو شفیع الانبیاء و موثر جملہ معطوفہ ہو کر کان کی خبر ہے اور محلا منصوب ہے۔برق صاحب !کان کی خبر کے مرفوع استعمال ہونے کی ایک اور مثال بھی ملاخطہ ہو۔وَمَنْ يَسْتَعْتبَ الحَدَثان يوما يكن ذاك الحِتَابُ له عناء دیکھئے ضرورت شعری کیلئے عناء کو مرفوع استعمال کیا گیا ہے حالانکہ وہ کان کی خبر ہونے کی وجہ سے منصوب چاہیئے۔(دیواں بدیع الزمان صفحه (۶) : فَيَأتِي مِن الله العليم مُعلِم فَيَهْدِي إِلَى أَسْرَارِهَا وَيُفَسِرُ