تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 648 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 648

۶۴۸ قصیدہ اعجاز یہ کی معجزانہ حیثیت اور اس پر اعتراضات کے جوابات حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے قصیدہ اعجاز یہ مندرجہ "اعجاز احمدی " پر جس کے ساتھ دس ہزار روپیہ کا انعامی اشتہار بھی تھا کہ جو شخص ایسا قصیدہ جو ساڑھے پانچسو اشعار کا ہے معہ اردو عبارت کی تردید پندرہ دن کے اندر پیش کر دے اسے یہ انعام دیا جائے گا۔اور بالخصوص اس میں مولوی ثناء اللہ صاحب مخاطب تھے اور انہیں اجازت دی گئی تھی کہ قاضی ظفر الدین و مولوی اصغر علی و علی حائری و پیر مہر علی شاہ گولڑوی کو بھی اپنی مدد کیلئے اپنے ساتھ ملا لیس جن کے دماغ میں عربی دانی کا کیڑا ہے۔سولہ نومبر کو رسالہ اعجاز احمدی ان لوگوں کو بھیجا گیا۔تین دن ڈاک کے رکھے گئے اور دس نومبر سے دس دسمبر تک مہلت دی گئی۔آپ فرماتے ہیں :- ار دسمبر ۱۹۰۲ء تک اس میعاد کا خاتمہ ہو جائیگا۔پھر اگر بیس دن میں جو دسمبر ۱۹۰۲ء کی دسویں کے دن کی شام تک ختم ہو جائے گی انہوں نے اس قصیدہ اور اردو مضمون کا جواب چھاپ کر شائع کر دیا تو یوں سمجھو کہ میں نیست و ناو د ہو گیا اور میرا سلسلہ باطل ہو گیا۔اس صورت میں میری تمام جماعت کو چاہیے کہ مجھے چھوڑ دین اور قطع تعلق کریں۔لیکن اگر اب بھی مخالفوں نے محمد ا کنارہ کشی کی تو نہ صرف دس ہزار روپے کے انعام سے محروم رہیں گے بلکہ دس لعنتیں ان کا ازلی حصہ ہو گا۔اور اس انعام میں سے شاء اللہ کو پانچ ہزار روپیہ ملے گا اور باقی پانچ کو اگر فتحیاب ہو گئے ایک ایک ( اعجاز احمدی صفحه ۹۰ طبع اول) کس قدر غیرت دلانے والا یہ چیلنج ہے جس میں دس لعنتیں ڈالکر مقابلہ کے ہزار ملے گا۔“ لئے غیرت دلائی گئی ہے مگر افسوس کہ کسی شخص کو مدت معینہ کے اندر اس کا جواب