تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 647 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 647

۶۴۷ دوسرے مصرع میں تعلق کے قاف مفتوح کو بر عائلت وزن ساکن کیا گیا ہے۔کعب من زحیر کہتے ہیں۔ارجو وَامِلُ اَنْ تَدْنُوا مُؤدَّتُهَا وَمَا أَخَالُ لَدَيْنَا مِنْكِ تَنْويل پہلے مصرع میں ان تدنُو کی واؤ مفتوح کو بر رعایت وزن ساکن کر دیا گیا ہے۔آخری شعر : سبرق صاحب نے ایک شعر کا دوسرا مصرع درج کیا ہے۔قمتُ أَيّهَا النَّارِى بِنَارِ تُسَعَرُ (خطبہ الہامیہ صفحہ ۲۰۴ طبع اول)اور اعتراض کیا ہے ناری غلط ہے ناری بہ تشدید ی ہونا چاہیے۔(حرف محرمانه صفحه ۴۱۱) برق صاحب اس جگہ اصل لفظ النارى الف لام کے ساتھ ہے نہ کہ نَارِی الف لام کے بغیر الناری کی یائے مرفوع مشدد کو بر عایت وزن مخفف الناری پڑھا جائے۔مولوی ہادی علی صاحب حاشیہ اجرومیہ میں جوازات شعر یہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔سوم مشدد را مخلف خواندن یعنی مشدد کو مخفف پڑھنا جائز ہے۔پھر اس پر نوٹ دیتے ہیں۔وو و معنی ضرورت در میں جا جو از مطلق است نه این که شاعر از بدل آوردنش عاجز آمده اختیار کند ،، یعنی ضرورت شعریہ کے معنے اس جگہ مطلق جواز کے ہیں نہ یہ کہ شاعر اس لفظ کا بدل لانے سے عاجز آکر اسے اختیار کرتا ہے۔پس اس اجازت کے تحت زیر بحث مصرع میں اَلنَّارِئُ مُشدّد کو النَّارِي مخفف استعمال کیا گیا ہے۔فتدبر ولا تكن من الغافلين۔