تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 628 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 628

۶۲۸ حارث بن کعب زمانہ جاہلیت کا ایک شاعر کہتا ہے :- ا كَلْتُ شَبَا بِي فَأَفْنَيْتُهُ ثَلَاثَةَ أَهْلِينَ صَاحِبَتُهُم وَأَفْنَيَتْ بَعُدَ شهورٍ شُهُورًا فَبَانُوا وَاصْبَحْتُ شَيْخاً كَبِيرًا الشعر والشعراء لابن قتيبة) ترجمہ :۔میں نے اپنی جوانی کھائی پس میں نے اسے فنا کر دیا اور میں نے مہینوں کے بعد کئی مہینے فنا کر دیئے۔میں تین گھر والوں کے ساتھ رہا پس وہ تو جدا ہو گئے اور میں بہت بوڑھا ہو گیا۔کیا برق صاحب اب اَكَلُوا أَعْمَارَ هُمُ کا عربی محاورہ کے مطابق استعمال دیکھ کر کچھ محسوس کریں گے + دیده باید۔-- هل هوا الأخروجُ مِّنَ القُرآن ( خطبه الهامیه صفحه ۵۸ طبع اول) کے فقرہ پر برق صاحب لکھتے ہیں :- خروج جب بغاوت کے معنوں میں استعمال ہو تو اس کے بعد ہمیشہ علی آتا ہے۔اس لئے من القرآن صحیح نہیں۔“ (حرف محرمانه صفحه ۴۰۶) الجواب اس فقرہ میں خروج بغاوت کے معنوں میں استعمال نہیں ہوا بلکہ قرآن کو مانتے ہوئے اس کی تعلیم کو نظر انداز کر دینے اور اس سے غفلت برتنے کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔چنانچہ سیاق کلام بھی اسی مفہوم کے ادا کرنے پر روشن دلیل ہے۔يا حسرةً عَلَيْكُمْ إِنَّكُمْ نَسيتُم قَولَ اللهِ وَقَوْلَ رَسُولِهِ أَعْنِي مِنكُمْ وَظَنَنتُم أَنَّ المَسيحَ يَاتِي مِنَ السَّمَوَتِ العُلى وكَيْفَ تَتَرَكُونَ الْقُرآنَ وَأَيُّ شَهَادَةٍ اكْبَرُ لِمَن هتَدَى