تحقیقِ عارفانہ — Page 627
۶۲۷ دیئے گئے مرادی ترجمہ کے خلاف ہے۔خطبہ الہامیہ میں اس عبارت کا ترجمہ یوں دیا گیا ہے :- ،، انہوں نے دنیا کی طلب میں اپنی عمر میں کھوئیں۔“ ا کلو (انہوں نے کھایا) کا استعمال چونکہ مجازی ہے اس لئے مجاز کا لفظی ترجمہ نہیں کیا جاتا بلکہ اس کا مفہوم مراد ہوتا ہے۔پس آ كَلُوا أَعْمَارَ هُمُ کا مجازی مفہوم یہ بیان کیا گیا ہے کہ انہوں نے اپنی عمر میں کھوئیں۔برق صاحب کہتے ہیں کہ "أَكَلُو أَعْمَار هم پنجابی محاورہ ہے کئی محاورات مختلف زبانوں میں مشترک ہوتے ہیں کیونکہ فطرت انسانیہ ایک ہی ہے۔یہ محاورہ اگر پنجابی میں بھی استعمال ہوتا ہے تو اس کے یہ معنی نہیں کہ یہ عربی اور فارسی میں استعمال نہیں ہو تا۔فارسی میں " سالخوردن " کا محاور ہانسی معنی میں استعمال ہوتا ہے۔برق صاحب کو یہ کیسے زعم ہو گیا ہے کہ انہیں عربی زبان پر عبور حاصل ہے۔کیا برقی صاحب اپنے تئیں طرفہ اور نابغہ کا میل سمجھتے ہیں۔سنئے برق صاحب ! اكلوا اعمار ھم کا جملہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ علیہ السلام نے ٹھیک عربی محاورہ کے مطابق استعمال کیا ہے۔دیکھئے !السان العرب میں جو عربی لغت کی جامع اور مستند کتاب ہے لکھا ہے :- 56 " يقال اكلته العقرب واكل فلان عمره اذا أفناه “ (لسان العرب جلد ۱۳ صفحه ۲۰) ترجمہ : " کہتے ہیں کہ فلاں کو چھو کھا گیا۔یا فلاں نے اپنی عمر کھائی جب وہ اسے فتا کر دے۔66 پس اس نے اپنی عمر کھائی“ کے معنے ہیں اس نے اپنی عمر کھو دی۔اگر برق صاحب المنجد کو ہی دیکھ لیتے تو انہیں اکل فلان عمرہ کا محاورہ مل جاتا۔