تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 620 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 620

۶۲۰ مونث بھی استعمال ہوا ہے اور مذکر بھی اور حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے زیر بحث الهام میں پہلی آیت کی طرح مذکر استعمال ہوا ہے۔:- " أخطئى وأصيب “- اس الهام پر برق صاحب کا اعتراض یہ ہے کہ :- (حقیقۃ الوحی صفحه ۱۰۳ طبع اول) عجب بے بس خدا ہے جس کے ارادے کبھی پورے نہیں بھی ہوتے۔قرآن میں تو فرمایافَعالُ لِمَايُرِيدُ اور یہاں یہ ضعف و بیچارگی۔الجواب (حرف محرمانه صفحه ۳۹۸) یہ الہام از قبیل متشابہات ہے۔حقیقۃ الوحی میں جہاں سے برق صاحب نے یہ الہام لیا ہے وہاں ہی حاشیے میں اس کی تشریح یوں درج ہے :- اس وحی الہی کے ظاہری الفاظ یہ معنے رکھتے ہیں کہ میں خطا بھی کروں گا اور صواب بھی یعنی جو میں چاہوں گا کبھی کروں گا کبھی نہیں۔اور کبھی میرا ارادہ پورا ہو گا اور بھی نہیں۔ایسے الفاظ خدا تعالے کے کلام میں آجاتے ہیں۔جیسا کہ احادیث میں لکھا ہے کہ میں مومن کی قبض روح کے وقت تردد میں پڑتا ہوں۔حالانکہ خداتر قد سے پاک ہے۔اسی طرح یہ وحی الہی ہے کہ کبھی میرا ارادہ خطا جاتا ہے اور کبھی پورا ہو جاتا ہے۔اس کے یہ معنے ہیں کہ کبھی میں اپنی تقدیر اور ارادہ کو منسوخ کر دیتا ہوں اور کبھی وہ ارادہ جیسا کہ چاہا ہوتا ہے۔“ (حقیقۃ الوحی حاشیه صفحه ۱۰۳ طبع اول) واضح ہو کہ الہام ہذا کا یہ مفہوم کہ کبھی میں اپنی تقدیر اور ارادہ کو منسوخ کر دیتا ہوں آیت قرآنيه يَمُحُوا اللهُ مَايَشَاءُ وَيُثبتُ وَعِنْدَهُ أُمُّ الكِتب (الرعد:۴۰) کے عین مطابق ہے۔اس آیت کا مفاد یہ ہے کہ ام الکتب کی بعض مقدر