تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 619 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 619

۶۱۹ الجواب برق صاحب ! قدم قدم پہ آپ اپنے علمی افلاس کا ثبوت دے رہے ہیں۔سے اتذکرہ مصدر ہے اور عربی زبان میں مصدر مذکر اور مونث دونوں طرح استعمال ہو سکتا ہے۔اس عبارت میں مذا تذکرہ کے لئے اسم اشارہ نہیں بلکہ "هذا تذکرہ جملہ اسمیہ ہے۔جس میں ھذا مبتداء واقع ہوا ہے اور تذکرہ اس کی خبر ہے۔اگر ھذ الطور اسم اشارہ استعمال ہوتا تو عبارت حذا متذ کرہ ہوتی اور اس کے بعد اس کی کوئی خبر لائی جاتی۔الہام میں ھذا کا مشار الیہ اس سے پہلا نہ کور کلام ہے۔اس مذکور کلام کو باسم اشارہ مذکر یه الهام اللی تذکرہ ( نصیحت ) قرار دے رہا ہے۔ہے :- برق صاحب ! آپ کو قرآن مجید کا بھی صحیح علم نہیں۔دیکھئے اللہ تعالیٰ فرماتا كَلَّا إِنَّهَا تَذْكِرَهُ فَمَنْ شَاءَ ذَكَرَهُ (العبس : ۱۲، ۱۳) ذرا آنکھیں کھول کر دیکھئے ذکر میں ، کی ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع اس جگہ تذکرہ ہی ہے۔پس اس جگہ خدا تذکرہ کو مذکر ہی استعمال کر رہا ہے۔اور انھا کی ضمیر کا مرجع آیات القرآن میں جو اس سے پہلے مذکور ہیں۔فافهم وتدبرو لاتكن من الغافلين برق صاحب! معلوم ہوتا ہے مصدر کے استعمال کا قاعدہ نہ جاننے کی وجہ سے غالباً آپ کو سورۃ مزمل کی آیت (۲۰) إِنَّ هَذِهِ تَذْكِرَةٌ" سے کوئی غلط فہمی پیدا ہوئی ہے۔جس کی وجہ سے آپ نے حضرت ہائی سلسلہ احمدیہ علیہ السلام کے اس الہام پر زبان طعن دراز کی ہے۔مسلئیے ! قرآن مجید کی آیت میں اس جگہ ھذہ کا مشار الیہ بھی آیات قرآنیہ ہیں۔نہ کہ تذکرۃ۔تذکرہ تو ھذہ مقتبدا کی خبر واقع ہوا ہے۔پس قرآن کریم میں تذکرہ ¦