تحقیقِ عارفانہ — Page 618
۶۱۸ لئے برق صاحب نے اس الہام کے سیاق کی مندرجہ بالا عبارت کو دانستہ چھپایا ہے۔یہ طریق اعتراض محققانہ نہیں بلکہ محض معاندانہ ہے۔۵ : - أنتَ مِنْ مَاءِ ناوَهُمْ مِنْ فَشَلُ۔“ تم ہمارے پانی سے ہو اور باقی لوگ بہ دلی ہیں۔اس پر برقی صاحب کو اعتراض ہے :- الجواب کیا سمجھے ؟" (حرف محرمانه صفحه ۳۹۷) حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے سمجھانے سے ہم یہ سمجھے ہیں کہ اس جگہ پانی سے مراد ایمان کا پانی، استقامت کا پانی، تقویٰ کا پانی ، وفا کا پانی، صدق کا پانی، حسب اللہ کا پانی ہے جو خدا سے ملتا ہے اور فشل بر ولی کو کہتے ہیں جو شیطان سے آتی ہے۔“ انجام آنقم حاشیه صفحه ۵۶ طبع اول) اس الہام میں ایمان، استقامت، تقویٰ اور حب اللہ کا مفہوم پانی کے لفظ سے مستعار ہے۔اور یہ ایک لطیف استعارہ ہے اس امر کے لئے کہ مسیح موعود علیہ السلام ،ایمان، تقویٰ، استقامت کے حامل اور حب اللہ سے سر شار ہیں۔اور آپ کے دشمن بزدل ہیں۔اس لئے ان سے مت گھبرانا۔پس جب ملہم نے اپنے الہام کی تشریح خود کر دی ہے تو برقی صاحب کا سوال کیا سمجھے ؟ ایک فضول اور لغو سوال ہے۔: - وهذا تذكرة - " اس پر برق صاحب لکھتے ہیں :- انجام آتھم صفحه ۶۲ طبع اول) " تذکر و مونث ہے اس لئے ہذا کی جگہ ھذہ چاہیے۔“ ( حرف محرمانه صفحه ۳۹۷)