تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 612 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 612

۶۱۲ 66 : " لولا الا كُرَامُ لَهَلَكَ المُقَامُ۔“ اس الہام پر تین اعتراض کئے ہیں :- اول : - الاکرام کا استعمال غلط اور بے معنی ہے۔دوم : - مقام کا استعمال ہندی ہے۔سوم : ملاکت کی نسبت مقام کی طرف عربی محاورہ کے خلاف ہے۔الجواب (حرف محرمانه صفحه ۳۹۶) برق صاحب کی یہ تینوں باتیں غلط ہیں۔پہلی اس طرح غلط ہے کہ الاکرام کا استعمال الہام میں غلط اور بے معنی نہیں بلکہ الاکرام کا الف مخصوص اکرام کو ظاہر کرتا ہے۔جس سے ملہم کا اکرام مراد ہے۔پس الا کرام کے معنی اکرامت ہوئے۔مگر برق صاحب نے اس کی توجیہہ لولا اكرامك قرار دے کر لکھا ہے :- " جس کے معنی ہوں گے ”اگر تیرا عزت کرنا نہ ہوتا“ ظاہر ہے کہ اس فقرے میں کوئی بھی مفہوم موجود نہیں۔“ (حرف محرمانه صفحه ۳۹۵) ان کا یہ ضمنی اعتراض بھی ان کے علمی افلاس کا ثبوت ہے۔دراصل برق صاحب کو یہ علم نہیں کہ عربی زبان میں مصدر معروف اور مصدر مجمول کے لئے ایک ہی لفظ استعمال ہوتا ہے۔اردو اور فارسی کی طرح مصدر معروف اور مصدر مجمول کے لئے الگ الگ الفاظ استعمال نہیں ہوتے۔پس الاکرام کے معنی جہاں دوسرے شخص کی عزت کرنا ہیں وہاں اس کے معنی عزت کیا جاتا بھی ہیں اگر مصدر کی اضافت فاعل کی طرف ہو مصدر معروف سمجھا جائے گا اور معنی عزت کرنا ہوں گے۔اور اگر مصدر کی اضافت مفعول کی طرف ہو تو اسے مصدر مجمول سمجھا جائے گا۔اور معنی عزت کیا جاتا