تحقیقِ عارفانہ — Page 611
۶۱۱ :- لُوطاً آتَيْنَهُ حُكماً وَّ عِلماً - : - أَتَيْنَهُمْ مُلكاً عَظِيماً - (الانبیاء : ۷۵) (النساء : ۵۵) ٩ : - وَلَقَدْ أَتَيْنَكَ سَبْعاً مِّنَ الْمَثَانِي وَالْقُرآنَ الْعَظِيمَ - ( الحجر : ۸۸) اس آیت میں سورۃ فاتحہ اور قرآن کریم کے دیا جانے کیلئے اتینگ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔اور سورۃ فاتحہ وحی الہی کے لحاظ سے سب سے بڑی نعمت ہے جو دنیا کو دی گئی۔پس برق صاحب کے اعتراض کی رگالت اور مخافت ان آیات سے ظاہر ہے۔کیونکہ ان کا یہ اعتراض تو پھر قرآن شریف کی وحی پر بھی پڑتا ہے۔دوم : - " یہ العام البنك الدنيا (ہم نے تمہیں دنیا دے دی ) مادی لحاظ سے غلط ہے۔اور روحانی لحاظ سے ابھی پورا نہیں ہوا اور نہ آئندہ اس کی تکمیل کا کوئی امکان نظر آتا ہے۔“ (حرف محرمانه صفحه ۳۹۴) روحانی لحاظ سے یہ ایک حد تک پورا ہو چکا ہے۔چنانچہ اس وقت لاکھوں آدمی ساری دنیا میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سیادت روحانیہ کو مان رہے ہیں۔اور انشاء اللہ وہ وقت بھی آئے گا کہ دنیا کی غالب اکثریت آپ کی روحانی سیادت کی قائل ہو جائے گی۔گو برق صاحب کو اس کی تکمیل کا کوئی امکان نظر نہیں آتا مگر بعض نا ممکنات کا وجود میں آجاتا ہی تو خدا تعالیٰ کی قدرت نمائی اور معجزہ ہوتا ہے۔اور پیشگوئیوں کا پورا ہونا ایک وقت چاہتا ہے۔اس لئے انتظار کیجئے۔اس کے آثار تو ظاہر ہو چکے ہیں کیونکہ حضرت اقدس کو تبلیغ اسلام کے لئے مخلصین کی ایسی جماعت دی گئی ہے۔جو دین کی راہ میں ہر قسم کی قربانیاں کر کے اس پیشگوئی کے کامل طور سے پورا ہونے کے زمانہ کو خدا کے فضل سے قریب لارہی ہے۔