تحقیقِ عارفانہ — Page 607
۶۰۷ جودت طبع اور مبلغ علم سے بڑھ کر ہیں۔" (تحفہ گولڑویہ صفحہ ۲۱ طبع اوّل) اب قارئین کرام ملاخطہ فرمالیں کہ اس عبارت میں کو نسا فقرہ مہمل ہے۔جب کہ اس کو مذکورہ سیاق و سباق میں پڑھا جائے۔:: برق صاحب لکھتے ہیں۔مرزا صاحب کے دو شعر ملاحظہ ہوں :- کیوں غضب بھڑ کا خدا کا مجھ سے پوچھو غافلو! ہو گئے ہیں اس کا موجب میرے جھٹلانے کے دن جب سے میرے ہوش غم سے دیں کے ہیں جاتے رہے طور دنیا کے بھی بدلے ایسے دیوانے کے دن تتمہ حقیقۃ الوحی صفحہ آخر طبع اول ۱۹۰۷ء) ”میرے جھٹلانے کے دن“ میں حضرت اقدس نے ” میرے“ کو بطور ضمیر اضافت " استعمال نہیں فرمایا۔بلکہ اپنے اسلوب کے مطابق بطور " ضمیر ا مفعول با معنی " مجھے “ استعمال فرمایا ہے۔پس شعر کے معنی صاف ہیں کہ اے غافلو : مجھ سے پوچھو کہ خدا کا غضب کیوں بھڑکا ہے ؟ تمہارا مجھے جھٹلانا اس غضب کا موجب ہوا ہے۔دوسرے شعر کا مصرع ثانی پہلے مصرع کے ساتھ مل کر یہ معنی رکھتا ہے کہ جب سے میں دین (اسلام) کے غم میں دیوانہ ہوا ہوں۔لوگوں کے اطوار بھی بدل گئے ہیں۔اور میری تکفیر اور تکذیب پر کمر بستہ ہو گئے ہیں۔برق صاحب نے آخر میں نوٹ دیا ہے :- یہ تھیں چند مثالیں اس کلام کی جس کے متعلق مرزا صاحب نے فرمایا تھا۔كَلَامُ أَفْصِحَتْ مِن لَّدُنْ رَبِّ رَحِيمٍ