تحقیقِ عارفانہ — Page 606
۶۰۶ انگریزی لفظ ” فیل“ کے مقابل انگریزی لفظ pass کے مشابہ ہے۔حقیقت میں یہاں یہ لفظ فارسی لفظ پاس ہے۔جو اردو میں با معنی لحاظ خاطر استعمال ہوتا ہے۔مراد یہ ہے۔کہ خواب کا مضمون آپ نے یہ بتایا تھا۔کہ اس امتحان میں مقدم الذکر شخص کا پاس خاطر ہو گا یعنی وہ کامیاب ہو گا۔اور دوسرے سب امیدوار فیل ہو جائیں گے۔: " یعنی جو کچھ آسمانوں اور زمین کی بناوٹ میں اسرار اور عجائبات پر ہیں دجال معمود کی طبائع کی بناوٹ اس کے برابر نہیں۔“ " نہ معلوم برق صاحب نے یہ عبارت کیوں درج کر دی اور اس میں انہیں کیا اہمال اور امام نظر آیا ہے۔جس لطیف اور واضح عبارت سے سیاق و سباق کو دانستہ کاٹ کر یہ فقرہ لکھا گیا ہے۔وہ پوری عبارت یوں ہے :- واضح رہے کہ قرآن شریف میں الناس کا لفظ بمعنی رجال معمود بھی آتا ہے۔اور جس جگہ ان معنوں کو قرینہ قویہ متعین کرے تو پھر اور معنے کرنا معصیت ہے۔چنانچہ قرآن شریف کے ایک اور مقام میں الناس کے معنے دجال ہی لکھا ہے اور وہ یہ ہے۔لخلق السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ أَكبَرُ مِن خلق الناس - (المومن : ۵۸) یعنی جو کچھ آسمانوں اور زمین کی ملاوٹ میں اسرار اور عجائبات پر ہیں۔دجال معہود کی طبائع کی مناوٹ انس کے برابر نہیں۔( یہ آیت کا ترجمہ ہے آگے تشریح میں فرماتے ہیں نا قل)۔یعنی گودہ لوگ اسرار زمین و آسمان کے معلوم کرنے میں کتنی ہی جانکا ہی کریں اور کیسی ہی طبع و قا ولاو ہیں۔پھر بھی ان کی طبعیں ان اسرار کے انتا تک پہنچ نہیں سکتیں۔“ (تحفہ گولڑویہ صفحہ ۲۱ طبع اول) اور پھر اس کی تشریح میں فرماتے ہیں :- خلاصہ مطلب آیت یہ ہے کہ زمین آسمان میں جس قدر اسرار رکھے گئے ہیں جن کو دجال بذریعہ علم طبیعی اپنی قدرت میں کرنا چاہتا ہے وہ اسرار اس کے اندازہ