تحقیقِ عارفانہ — Page 605
اہتمام سے اعتراض کرنا عالی ظرفی کی علامت نہیں۔اسی سال بہت سے اور لوگوں نے بھی امتحان دیا مجھ کو خواب آئی کہ ان سب میں سے صرف اس شخص مقدم الذکر کا پاس ہو گا۔اور دوسرے سب امید وار فیل ہو جائیں گے۔“ اصل عبارت یوں ہے :- ایک مرتبہ خدا نے ہم کو خواب میں ایک راجہ کے مرجانے کی خبر دی وہ خبر ہم نے ایک ہندو صاحب کو کہ جو اب پلیڈری کا کام کرتے ہیں بتلائی۔جب وہ خبر اسی دن پوری ہوئی تو وہ ہندو صاحب بہت ہی متعجب ہوئے کہ ایسا صاف اور کھلا ہوا علم غیب کا کیونکر معلوم ہوا۔پھر ایک مرتبہ جب انہیں وکیل صاحب نے اپنی وکالت کے لئے امتحان دیا تو اسی ضلع میں سے اُن کے ساتھ اسی سال میں بہت سے اور لوگوں نے بھی امتحان دیا۔اس وقت بھی مجھ کو ایک خواب آئی۔اور میں نے اس وکیل صاحب کو اور شاید تمیں آیا چالیس اور ہندوؤں کو جن میں سے کوئی تحصیلدار کوئی سر رشتہ دار کوئی محر ر ہے بتلایا۔کہ ان سب میں سے صرف اس شخص مقدم الذکر کا پاس ہو گا اور دوسرے سب امیدوار فیل ہو جائیں گے۔چنانچہ بالآخر ایسا ہی ہوا۔اور ۱۸۶۸ء میں اس وکیل صاحب کے خط سے اس جگہ قادیان میں یہ خبر ہم کو مل گئی۔والحمد لله على ذالك" (براہین احمدیہ حاشیه در حاشیه صفحه ۲۵۶ طبع اول) برق صاحب نے اس نشان سے تو کوئی فائدہ اٹھایا نہیں بلکہ عبارت کو غیر موثر بنانے کے لئے شروع اور درمیان کی عبارتیں حسب عادت حذف کر گئے ہیں۔البتہ انہیں اس نشان کے بیان کی عبارت کے ایک حصے پر اعتراض پیدا ہوا ہے۔خط کشیدہ عبارت میں "پاس" کا لفظ ایک خاص صنعت میں استعمال ہوا ہے۔جو بظاہر