تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 582 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 582

۵۸۲ نمبر ۴ : " میری رحمت تجھ کو لگ جائے گی۔اللہ رحم کرے گا۔" برق صاحب استہز اء لکھتے ہیں :- (تتمہ حقیقۃ الوحی صفحہ ۷۰ اطبع اول) کیا ر حمت کوئی بیماری ہے۔جس سے محفوظ رہنے کی بشارت دی جارہی ہے یاد ھمکایا جا رہا ہے کہ اے میرے نبی تو اس وقت میری رحمت سے بچ نہیں سکتا۔البتہ آخر میں تم پر رحم کیا جائے گا۔“ الجواب (حرف محرمانه صفحه ۳۷۲) برق صاحب کی طرف سے یہ طنز و استہزاء قابل تعجب نہیں کیونکہ بات کو غلط معنے دیگر استہزاء کرنا ان کی عادت میں داخل ہے ورنہ بات بالکل سیدھی ہے۔اور خدا تعالیٰ کا یہ الہام قرآن مجید کے استعمال وَإِن يَمْسَسْكَ بِخَيْرٍ (اگر تمہیں بھلائی لگ جائے۔سورہ انعام آیت (۱۸) کے مطابق نازل ہوا ہے۔ماسوا اس کے اردو لغت میں لگ جانا شروع ہونے کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے۔(ملا خطہ ہو فیروز اللغات اردو) اس لحاظ سے "رحمت لگ جائے گی" سے مر اور حمت کا شروع ہونا ہے۔اور اس کے بعد کے فقرہ میں اللہ رحم کریگا میں تکمیل رحمت کا وعدہ ہے۔لہذا برق صاحب کا یہ اعتراض محض استہزاء ہے۔اور اسہتر اء ہمیشہ منکرینِ انبیاء کا شیوہ رہا ہے۔”رحمت لگنا“ خدا تعالے کی طرف سے اردو محاورہ میں ایک ایجاد بھی کبھی جائے تو کیا خدا تعالیٰ کو محاورہ آفرینی کا حق نہیں ؟ ضرور ہے اسی لئے اس نے قرآن مجید میں فَلَمَّا سُقِطَ فِي أَيْدِيهِمْ کا جدید محاورہ استعمال کیا ہے۔جس سے عرب نا آشنا تھے۔ہاں اس کے محل استعمال سے اس کے معنی خود سمجھ میں آرہے ہیں۔