تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 560 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 560

۵۶۰ اقدس کی زبان کی خامی قرار دیا ہے وہی امور ان مسلم ادیبوں کے کلام میں بھی موجود ہیں پس برق صاحب کی تنقید محض معاندانہ ہے نہ کہ محققانہ۔برق صاحب کا سب سے پہلا اعتراض برق صاحب حضرت اقدس کی ذیل کی عبارت پیش کرتے ہیں :- اور ایک جماعت محققین کی بھی یہی معنی آیت موصوفہ بالا کے لیتی ہے۔“ (ازالہ اوہام صفحه ۴۲۶ طبع اول) اس پر برق صاحب معترض ہیں کہ اردو میں مضاف الیہ ہمیشہ پہلے آتا ہے لیکن یہاں مضاف " ایک جماعت " پہلے ہے۔دوسرا اعتراض اس پر یہ کیا ہے کہ موصوفہ میں بالا کا مفہوم موجود ہے۔اس لئے بالا زائد ہے۔(حرف محرمانه صفحه ۷ ۶۵) عام قاعدہ تو بے شک یہی ہے کہ اردو میں مضاف الیہ پہلے آتا ہے۔لیکن جب ، مضاف کو اہمیت دینا مقصود ہو۔تو از روئے علم معانی مقتضائے حال کے مطابق کلام وہی ہو گا جس میں مضاف کو مقدم کیا جائے۔اس کلام میں محققین پر زور دینا مقصود نہیں بلکہ ان کی ایک جماعت " پر زور دینا مقصود ہے۔اس لئے جماعت کو محققین سے مقدم رکھا گیا ہے۔اور "بالا کو زائد قرار دینا برق صاحب کی زیادتی ہے۔موصوفہ کا لفظ مذکورہ کے معنوں میں ہے اور بالا کا لفظ مذکورہ کی وضاحت کے لئے ہے پس یہ لفظ زائد نہیں۔