تحقیقِ عارفانہ — Page 559
۵۵۹ کی کثرت ہے اسی طرح ہندوؤں کی زبان میں سنسکرت اور بھاشا کی کثرت ہے۔لکھنوی زبان دہلوی زبان سے مختلف ہے اور دکنی اردو کچھ اور ہی رنگ رکھتی ہے۔اگر مقابلہ کر کے دیکھا جائے تو اردو زبان میں پنجابی زبان کا عنصر دوسری زبانوں کی نسبت بہت ہی زیادہ پایا جاتا ہے۔میرزا حیرت مدیر اخبار کر زن گزٹ دہلی حضرت اقدس بانی سلسلہ احمدیہ کی وفات پر یکم جون ۱۹۰۸ء کے پرچہ میں لکھتے ہیں :- اگر چہ مرحوم پنجائی تھا۔مگر اس کے قلم میں اس قدر قوت تھی کہ آج سارے پنجاب بلکہ بلندی ہند میں بھی اس قوت کا کوئی لکھنے والا نہیں۔اس کا پر زور لٹریچر اپنی شان میں نرالا ہے اور واقعی اس کی بعض عبار تیں پڑھنے سے ایک وجد کی سی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔اس نے ہلاکت کی پیشگوئیوں ، مخالفتوں اور نکتہ چینیوں کی آگ میں سے ہو کر اپنا رستہ صاف کیا اور ترقی کے انتہائی عروج تک پہنچ گیا۔" پس حضرت اقدس کی اردو زبان پر برق صاحب کی نکتہ چینی جو انہوں نے موجودہ زمانہ کی اردو زبان کو مد نظر رکھ کر کی ہے ژاژ خائی سے بڑھ کر کوئی حقیقت نہیں رکھتی دیکھنا تو یہ ہے کہ مضمون نگار کی زبان نے کیا اثر پیدا کیا ہے۔اگر اس کی زبان اہل علم طبقہ پر ایک عمدہ اور گہرا اثر چھوڑتی ہے۔تو پھر اس کی فصاحت اور بلاغت کے بارہ میں نکتہ چینی بے حقیقت ہو جاتی ہے اردو زبان کے لئے فصاحت و بلاغت کے بارہ میں کوئی کتاب موجود نہیں تھی۔کہ ادیب ان قواعد کی پابندی کرتے اب بھی کچھ لوگوں نے عربی زبان کی فصاحت اور بلاغت کا تبع کر کے بعض کتابیں فارسی اور اردو زبان کے متعلق لکھی ہیں۔برق صاحب اگر زبان پر نکتہ چینی کرنا چاہتے تھے تو انہیں بانی سلسلہ کے زمانہ کے ادیبوں کی طرز نگارش کو سامنے رکھنا چاہیے تھا۔اگر وہ اس زمانہ کے ادبیوں کے کلام سے آپ کے کلام کا مقابلہ کریں تو جن امور کو جناب برق صاحب نے حضرت