تحقیقِ عارفانہ — Page 558
۵۵۸ رزا صاحب کی یہ تحریریں نظر انداز کی جاسکیں۔“ (وکیل امر تسر جون ۱۹۰۸ء) یہ وہ خراج تحسین ہے جو پنجاب کے اس بادیہ نشین حضرت مرزا غلام احمد مسیح موعود علیہ السلام کو آپ کی وفات پر ادا کیا گیا ہے۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کوئی ادیب نہ تھے اور نہ ان کا کوئی ایساد عویٰ تھا کہ میں اردو زبان میں فصاحت و بلاغت کے جو ہر دکھانے کے لئے یہ مضامین لکھ رہا ہوں۔بلکہ آپ کا مقصد صرف خدمت اسلام تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ کے قلم کو عظیم الشان قوت عطاء فرمائی تھی۔اردو زبان ابھی ترقی کے منازل طے کر رہی تھی اور اس کی فصاحت وبلاغت کا کوئی خاص معیار اس زمانہ میں مقرر نہ تھا۔انگریزوں نے اپنی اغراض کے لئے صرف صرف و نحو کی کتاب لکھائی تھی چونکہ آج کی زبان میں کافی تبدیلی ہو چکی ہے۔اس سے برق صاحب یہ ناجائز فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں کہ وہ حضرت اقدس کی اردو زبان کا موجودہ زمانہ کی اردو زبان سے تقابل پیش کر کے حضرت اقدس کی زبان کو فصاحت و بلاغت کے معیار سے گرا ہو اپنا سکیں اور وہ یہ اعتراض کر سکیں کہ نبی تو فصیح البیان ہوتا ہے مگر آپ کی زبان فصاحت و بلاغت سے گری ہوئی ہے۔اس میں تراکیب بھی درست نہیں۔ثقیل الفاظ بھی موجود ہیں۔سمرار الفاظ بھی پایا جاتا ہے توائی اضافات کا عیب بھی موجود ہے۔خشو و زوائد بھی پائے جاتے ہیں اور محاورہ کی بھی خلاف ورزی کی گئی ہے۔تذکیر و تائیٹ کا استعمال بھی صحیح نہیں۔مگر اصل حقیقت یہ ہے کہ جن باتوں کو انہوں نے عیب قرار دیا ہے یہ امور اس زمانہ کے بڑے بڑے ادیبوں کے کلام میں جنہیں اردو کے عناصر سمجھا جاتا ہے ، موجود ہیں۔ہاں چونکہ آپ پنجاب کے رہنے والے تھے اس لئے طبعاً آپ کی اردو زبان میں پنجابی زبان کا اثر بھی موجود ہے اور اردو زبان کے لحاظ سے یہ کوئی عیب نہیں۔کیونکہ اردو ایک مخلوط زبان ہے۔یہ پنجابی فارسی اور برج بھاشا کے متزاج سے معرض وجود میں آئی ہے۔کچھ جس طرح مسلمانوں کی اردو میں عربی الفاظ