تحقیقِ عارفانہ — Page 45
۴۵ یعنی راغب نے کہا ہے کہ اللہ اور رسول کی اطاعت کرنے والے ) مر تبہ اور ثواب میں ان چار گروہوں کے ساتھ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام کیا ہے (اس امت کا نبی نبی کے ساتھ۔صدیق صدیق کے ساتھ۔شہید شہید کے ساتھ اور صالح صالح کے ساتھ۔پس آیت زیر تفسیر اس بات پر روشن دلیل نص قطعی ہے کہ اللہ تعالیٰ اور آنحضرت ﷺ کی پیروی میں مقام نبوت بھی مل سکتا ہے جس طرح مقام صدیقیت اور مقام شهیدیت اور مقام صالحیت مل سکتا ہے۔اس طرح یہ آیت يَا بَنِي آدَمَ إِمَّا يَأْتِيَنَّكُمْ رُسُلٌ مِنْكُمْ کی خصص بھی ہے اور اس کی مفسر بھی یعنی یہ آیت بتاتی ہے کہ بنی آدم میں آئندہ جن رسولوں کی آمد کا امکان بیان ہوا ہے اس سے ایسے رسول مراد ہیں جو آنحضرت ﷺ کی اطاعت میں مقام رسالت حاصل کریں گے اور امتنی رسول ہوں گے نہ کہ مستقل رسول۔پس یہ دونوں آئیں آیت خاتم النبین کی تفسیر ہیں۔برق صاحب کی مزید پیش کردہ آیات کا حل جناب برق صاحب نے آیت عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنتُمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بالمُؤمِنِينَ رَؤُفٌ رَّحِيمٌ (التوبه : ۱۲۸) کو بھی انتطارع نبوت کے ثبوت میں پیش کیا ہے۔مگر یہ آیت ہر گز نبوت کے انقطاع پر دلیل نہیں۔بلکہ آیت مَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَ الرَّسُول نا کی موید ہے۔کیونکہ آنحضرت ﷺ کا مومنوں کی ترقی کے لئے حریص ہونا اور پھر آپ کا رؤف و رحیم ہونا تو آپ کے افاضہ روحانیہ کی دلیل ہے۔اور اس کی وجہ سے تو امت محمدیہ میں باکمال انسان پیدا ہونے چاہئیں لہذا یہ آیت امتی نبوت میں مانع نہیں ہو سکتی۔کیونکہ آیت مَن يُطع الله والرسول الخ امتی کے لئے نبی ہو سکنے پر روشن دلیل ہے ورنہ قرآن مجید میں تضاد لازم آتا ہے جو محال ہے۔اسی طرح آیت