تحقیقِ عارفانہ — Page 540
۵۴۰ خوارزم شاه علی بن مامون بن محمد ترجمہ :۔پھر ابو علی (اہلی سینا ) کا والد اس کی عمر کے بائیسویں سال وفات پا گیا۔اور ابو علی کے حالات بدل گئے اور اسے سلطان کے کاموں میں سے کوئی کام سپرد ہو گیا اور جب سامانی حکومت کے امور میں اضطراب پیدا ہوا تو ضرورت نے اسے خارا سے خروج کرنے پر گر گانج میں خوارزم شاہ علی بن مامون بن محمد کے پاس جانے پر مجبور کیا۔پس اس بیان سے ظاہر ہے کہ شیخ ابو علی ابن سینا نہ صرف خوارزم شاہ کے زمانہ میں موجود تھا بلکہ وہ خود خوارزم شاہ علی بن مامون بن محمد کے پاس دربار میں پہنچا تھا۔ورۃ الاخبار ولمعتہ الانوار“ کے صفحہ ۳۸ پر جو ”تمہ صوان الحکمت“ کا فارسی ترجمہ ہے یہی مضمون ان الفاظ میں موجود ہے :- وو در سین بیست و دو سالگی پدرش نماند واد متقلد اعمال دیوانی و اشتغال سلطانی گشت و چون امور دولت سامانی مضطرب شد ابو علی را از آنجا انو عاج حاصل آمد بگر گانجه و خوارزم انتقال افتاد و خدمت خوارزم شاه علی بن مامون بن محمود که علامه شابان روزگار بود دیگانه ملوک نامدار پیوست اب یہ جناب برق صاحب کا کام ہے کہ ان حوالہ جات کو لین پول اور ابن القفطی کی اپنی پیش کردہ عبارتوں سے تطبیق دیں۔ہمارے پیش کردہ بیانات سے تو ظاہر ہے کہ شیخ ابو علی سینا نے خوارزم شاہ علی بن مامون بن محمد کا زمانہ پایا ہے۔تلمیحات اقبال میں سید عابد علی صاحب کی تحقیقات بھی یہی ہے وہ لکھتے ہیں :- بو علی سینا ایران کا مشہور مفکر، دانشور، طبیب، مدیر ، فلسفی اور بقول بعضے شاعر بھی تھا۔کچھ رباعیات اس سے منسوب ہیں۔اس کی ولادت کے ۳ھ کے لگ