تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 539 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 539

۵۳۹ رسالہ ہمدرد صحت و علی بات مگی وجون ۱۹۳۲ء میں " تاریخ الاطباء " کے عنوان کے ماتحت بو علی سینا کے متعلق حکیم عبد الواحد صاحب کا ایک قیمتی مقالہ شائع ہوا تھا۔رسالہ ہذا کے صفحہ ۹ پر حکیم صاحب موصوف ”خارا سے ہجرت“ کے عنوان کے تحت لکھتے ہیں :- " سلطنت کی تباہی کے بعد خارا میں شیخ ( بو علی سینا۔ناقل ) کا قیام محال تھا۔اس کو بادل نخواستہ مخارا سے ہجرت کا ارادہ کرنا پڑا اور ایسی جگہ تلاش کرنے کی فکر دامن گیر ہوئی جہاں وہ اپنے علم وفن کے جوہر بھی دکھائے اور اپنی علمی خدمات کا مناسب صلہ بھی پائے۔اسی تلاش میں وہ جابجامار اماراپھر الیکن کہیں گوہر مقصود نظر نہ آیا آخر کار اس کی نظر مجنس " خوارزم شاہ والی گرگانج" (ایران) پر پڑی۔خوارزم شاہ ایک علم دوست امیر تھا۔علماء وفضلا کی قدر دانی اس کا شعار تھا۔جب خود سلطان شیخ کی علمی قابلیت سے و علمیت سے واقف ہوا تو اس کو اپنے تمام درباری علماء کا افسر اعلیٰ بنا دیا۔" اس بیان سے ظاہر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تاریخ کے مطابق درست لکھا ہے۔کہ بو علی سینا خوارزم شاہ کے زمانہ میں تھا۔یہ خوارزم شاہ علی من مامون بن محمد تھا۔چنانچہ ” تمہ صوان الحکمت “ مطبوعہ پنجاب یونیورسٹی کے صفحہ ۴۴ پر لکھا ہے :- ثُمَّ مَاتَ وَالِدُ أَبِى عَلِى فِي سَنَةِ اثْنَتَى وَعِشْرِينَ مِنْ عُمُرِهِ تَصَرَّفَتْ بِهِ الْاَحْوَالُ وَتَقَلَّدَ عَمَلاً مِنْ أَعْمَالَ السُّلْطَان وَلَمَّا اضْطَرَبَتْ أُمُورُ السَّامَانِيَّةِ دَعَتُهُ الضَّرُورَةُ إِلَى الْخُرُوجِ مِنْ بُخَارِى وَالْاِنْتِقَالِ إِلَى كركانج وَ الْاِخْتِلَافِ الى