تحقیقِ عارفانہ — Page 531
۵۳۱ فَاليَوْمَ نُنَجِّيكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُونَ لِمَنْ خَلْفَكَ آيَةً یونس : ۹۳) آج ہم تمہاری لاش کو چا کر رکھیں گے۔تا تو آنے والی نسلوں کے لئے ایک سبق بن جائے۔“ یہ آیت صدیوں متشابہ رہی۔یہاں تک کہ اس صدی کے ربع اول میں اسی فرعوان کی لاش کہیں سے نکل آئی۔جو قاہرہ کے عجائب خانہ میں موجود ہے۔پھر اسی کتاب کے صفحہ ۹۰ پر لکھتے ہیں۔دد (بھائی بھائی صفحہ ۸۹، ۸۸) علم میں ہر روز اضافہ ہو رہا ہے۔کائنات کے اسرارو رموز کھل رہے ہیں۔اور ساتھ ہی قرآن کی آیات بھی حل ہوتی جارہی ہیں۔چونکہ اللہ تعالی نے تشریح قرآن کا وعدہ کر رکھا ہے اس لئے مجھے یقین ہے کہ چند صدیوں کے بعد تمام متشابہات محکمات میں تبدیل ہو جائیں گے۔“ جناب برق صاحب کی اپنی کتاب کے ان اقتباسات سے ظاہر ہے کہ قرآن مجید کی بعض آیات کی اصل حقیقت نزول کے وقت کسی پر نہیں کھلی بلکہ صدیوں بعد آکر کھلی ہے۔اور بعض اسرار و رموز کھلنے کے لئے ابھی اور صدیاں درکار ہیں۔اس ضروری تمہید کے بعد اب ہم ان کے پیش کردہ الہام کی حقیقت دکھانے کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔جناب برق صاحب نے اپنی عادت کے موافق الہام کا اقتباس درج کرنے میں بھی تحریف سے کام لیا ہے کیونکہ انہوں نے حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی اس تحریر میں لفظ یا کو یعنی سے بدل دیا ہے۔تا اس الہام کے معمل ہونے کا تاثر پیدا کریں۔پھر بر اطوس یعنی پڑا طوس یعنی پل طوس لکھ کر نیچے مخط کھینچ دیا ہے۔تا اس ساری عبارت کو الہام دکھا کر اس کا معمل ہونا یقینی بنائیں۔ایسی بات کی توقع کسی محقق کی طرف سے نہیں ہو سکتی۔کسی معاند کی طرف سے ہی ہو سکتی ہے۔جسے دیانت کا