تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 529 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 529

۵۲۹ ہم نے نجات دے دی یہ دونوں فقرے (ھو شعنا۔نعسا) عبرانی زبان میں ہیں اور یہ ایک پیشگوئی ہے جو دعا کی صورت میں کی گئی اور پھر دعا کا قبول ہونا ظاہر کیا گیا اور اس کا حاصل مطلب یہ ہے کہ جو موجودہ مشکلات ہیں یعنی تنہائی بے کسی ناداری کسی آئندہ زمانہ میں وہ دور کر دی جائیں گی چنانچہ پچیس برس کے بعد یہ پیشگوئی پوری ہوئی اور اس زمانہ میں ان مشکلات کا نام و نشان نہ رہا۔“ پس یہ الہام بھی با معنی ہے نہ کہ معمل۔وو الهام ۸ : " پریشن - عمر - پراطوس یعنی پڑا طوس یعنی پلا طوس یہ ۳ ا ر د سمبر ۱۸۸۳ء کا الہام ہے جو دراصل یوں درج ہے۔وو " پریشن۔عمر سیر اطوس یا پلا طوس“ - اسکے متعلق حضرت اقدس تحریر فرماتے ہیں۔یعنی پر اطوس لفظ ہے یا پلا طوس۔بباعث سرعت الہام دریافت نہیں ہوا اور عمر عربی لفظ ہے اس جگہ پریشن اور بر اطوس کے معنے دریافت کرنے ہیں کہ کیا ہیں (براہین احمدیہ ) اور کس زبان کے لفظ ہیں۔“ یہ الهام از قبیل اسرار و رموز ہے۔یہ ضروری نہیں کہ اسرار و رموز پر مشتمل الہامات کی حقیقت ملہم پر جلد ہی ظاہر ہو جائے بلکہ ایسے الہامات کی حقیقت واقعہ کے وقوع میں آنے پر ہی کھلتی ہے۔قرآن کریم میں سورتوں کے شروع میں جو مقطعات ہیں اور اس کے علاوہ جو آیات متشابیات ہیں وہ بھی بعض اسرار و رموز پر مشتمل ہیں۔جن کی اصل حقیقت تو خدا ہی جانتا ہے۔اور مفسرین صرف اجتہادی طور پر ہی اپنے علم کے مطابق ان کی کچھ نہ کچھ حقیقت بیان کرتے ہیں اور اصل حقیقت کو حوالہ مذاکرتے ہیں۔السراج الوہاج شرح مسلم جلد ۲ صفحہ ۷۴ ۷ میں لکھا ہے۔