تحقیقِ عارفانہ — Page 43
۴۳ اطاعت کرنے والا نبی نہیں بن سکتا صرف ظاہری طور سے ہی نبیوں کے ساتھ ہو گا تو ساری آیت کا مفاد یہ بن جائے گا کہ کوئی اطاعت کرنے والا اب صدیق، شہید اور صالح بھی نہیں بن سکتا۔صاف ظاہر ہے کہ آیت کے یہ معنی آنحضرت مے کی بلند شان کے صریح منافی ہیں۔کیونکہ صدیق اور شہید تو پہلے لوگ اپنے اپنے رسولوں کی اطاعت سے بھی من سکتے تھے۔جیسا کہ آیت وَالَّذِینَ آمَنُوا باللهِ وَرُسُلِهِ أُولئِكَ هُمُ الصديقُونَ وَالشُّهَدَاءُ (سورہ الحدید : ۲۰) سے ظاہر ہے۔اب اگر آنحضرت ﷺ کی اطاعت سے آپ کے کسی امتی کو صدیق اور شہید سے بلند مقام حاصل نہیں ہو سکتا تو آنحضرت ﷺ کے افاضہ روحانیہ کا کمال بھی باقی انبیاء سے بڑھ کر نہیں ہو گا۔اور آپ کو دوسرے انبیاء پر اپنی شانِ افاضہ میں کوئی امتیاز حاصل نہ ہو گا۔حالانکہ نبی کا کمال اس کی شان افاضہ کے کمال سے ہی ظاہر ہوتا ہے پس خاتم النبیین کا افاضۂ روحانیہ مدارج روحانیہ کے حصول میں بڑھ کر ہونا چاہئے اور یہ تبھی ممکن ہے کہ آنحضرت نے کی پیروی میں آپ کا امتی مقام نبوت بھی حاصل کر سکے۔امام راغب جو لغت قرآن مجید کے بیان کرنے میں امام مانے گئے ہیں مفردات راغب میں چار قسم کی معیت قرار دیتے ہیں وہ لکھتے ہیں :- " مَعَ يَقْتَضِى الاِ جُتِمَاعَ إِمَّا فِى الْمَكَانِ نَحُو هُمَا مَعًا فِي الدَّارِ أَوْفِي الزَّمَانِ نَحْوُ وُلِدَا مَعًا اَوْ فِي الْمَعْنِي كَالْمُتَضَائِفِينَ نَحْوَ الْأَخِ وَالْآبِ فَإِنَّ أَحَدَهُمَا صَارَ أَحَا لِلآخَرِ فِي حَالٍ مَّا صَارَ الْآخَرُ أَحَاهُ ، وَإِمَّا فِي الشَّرَفِ وَالرُّتُبَةِ نَحُوهُمَا معاً في العلو - (مفردات زیر لفظ مع) یعنی لفظ مع اجتماع ( اکٹھا ہونے کا تقاضا کرتا ہے۔یہ اجتماع چار صورتوں میں ہو سکتا ہے۔اول دونوں ایک مکان میں اکٹھے ہوں جیسے هُما معاً فِي الدَّارِ ( کہ وہ دونو گھر میں اکٹھے ہیں ) دوم زمانہ میں اکٹھے ہوں۔جیسے کہا جائے ولدا معاً ( وہ دونوں اکٹھے