تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 504 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 504

۵۰۴ فرماتا ہے قُلْ لَئِنِ اجْتَعَمَتِ الاِنُسُ وَالْجِنُّ عَلَى اَنْ يَأْتُوا بِمِثْلِ هَذَا القُرْآن لَا يَأْتُونَ بِمِثْلِهِ وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيراً (بنی اسرائیل : ۸۹) یعنی کہہ دو کہ اگر تمام انس و جن جمع ہو کر اس قرآن کی مثل لانا چاہیں تو وہ اس کی مثل نہیں لا سکیں گے۔خواہ وہ آپس میں ایک دوسرے کے مددگار ہوں۔اور پھر یہ بھی فرماتا ہے : - فَإِن لَّمْ يَسْتَحِبُو الكُمْ فَاعْلَمُو إِنَّمَا أُنزِلَ بِعِلم الله ( ہود : ۱۴۴) یعنی اگر وہ اس چیلنج کا جواب نہ لائیں تو تم جان لو کہ یہ اللہ کے علم سے نازل ہوا ہے۔مطلب اس آیت کا یہ ہے کہ اگر اس چیلنج کے مقابلہ میں مخالفین اسلام قرآن کی مثل لانے سے عاجز آجائیں تو یہ امر اس بات کی دلیل ہو گا کہ یہ اللہ کے علم سے اتارا گیا ہے اور محمد رسول اللہ علے بچے نبی ہیں۔معجزہ نبی سے ایسے امر کے صدور کو ہی کہتے ہیں جس کے صادر کرنے پر مخالفین نبی کے مقابلہ میں قادر نہ ہو سکیں۔پس خود قرآن کریم بھی آنحضرت ﷺ کا ایک معجزہ ہے اور متحدیانہ معجزہ ہے۔اور قیامت تک کے لئے معجزہ ہے۔لہذا برق صاحب کا یہ بیان غلط ثابت ہوا کہ حضور نے کہیں بھی اپنی رسالت کے ثبوت میں کوئی معجزہ نہیں دکھایا اور نہ ہی کوئی تحدی کی۔“ وَكَا مِّن مِّنْ آيَةٍ فِي السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ يَمُرُّونَ عَلَيْهَا وَهُمْ عَنْهَا مُعْرِضُونَ۔،، (یوسف : ۱۰۶) سوال پنجم جناب برق صاحب لکھتے ہیں :- "مرزا صاحب کے الہامات میں جو ہیں اجزاء پر مشتمل ہیں حیات انسانی کا کوئی لائحہ عمل نہیں ملتا۔ان میں نہ صوم صلوۃ کا ذکر ہے نہ حج وزکوۃ کا نہ مسائل نکاح و طلاق کا نه وراثت ارضی نہ تمکن فی الارض کا نہ جہاد وصدقات کا نہ حلال و حرام کا