تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 503 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 503

۵۰۳ مذکر کا نام رکھا گیا ہے اس لئے بر عائت مذکر مذکر کا صیغہ آیا۔اور یہی قاعدہ ہے جو نحویوں اور صرفیوں میں مسلم ہے۔کسی کو اس میں اختلاف نہیں۔“ (مکتوبات احمد یہ جلد اصفحہ ۸۳ ۸۲ محط منام میر عباس علی صاحب) پس برق صاحب نے ان الفاظ پر تمسخر کا جو طریق اپنی کتاب میں اختیار کیا ہے جسے ہم نے نقل نہیں کیا وہ ان کی شان کے مناسب نہیں تھا۔سوال چهارم میں برق صاحب تحریر فرماتے ہیں :- ” سارے قرآن کو الحمد سے والناس تک پڑھ جائیے حضور نے کہیں بھی اپنی رسالت کے ثبوت میں کوئی معجزہ نہیں دکھایا۔اور نہ ہی کوئی تحدی کی۔اگر کہا تو صرف اتنا ہی کہ میں ولادت سے تمہارے درمیان رہا ہوں میری زندگی پر نظر ڈالو یا یہ که اگر اس قرآن کے منجانب اللہ ہونے میں کوئی شک ہے تو ایک ہی سور قنا لاؤ۔" ( حرف محرمانه صفحه ۳۲۵ و صفحه ۳۲۶) الجواب معلوم ہوتا ہے کہ جناب برق صاحب صحیح احادیث نبویہ میں آنحضرت کے مذکورہ معجزات کے قائل نہیں (کیونکہ وہ حدیثوں کے منکر ہیں اور صرف اپنے مطلب کی حدیثیں مانتے ہیں ) نیز معلوم ہوتا ہے کہ وہ قرآن شریف کو اعجازی کلام نہیں سمجھتے تبھی تو انہوں نے لکھا ہے کہ حضور نے کہیں بھی اپنی رسالت کے ثبوت میں کوئی معجزہ نہیں دکھایا۔حالانکہ خدا تعالیٰ قرآن شریف کے معجزہ ہونے کو بڑی تحدی کے ساتھ مخالفین اسلام کے سامنے پیش کرتا ہے۔اور اس کی مثل لانے کا چیلنج دے رہا ہے۔اس سے بڑھ کر کیا تحدی اور معجزہ ہو سکتا ہے۔کہ اللہ تعالیٰ